Home
Questions And Answers

سوال: کیا خرگوش جگالی کرتا ہے یا نہیں؟

جواب:

 خرگوش جگالی کرتا ہے کہ نہیں کرتا ؟

ایک معروف غیر سکی نے جو اپنے آپ کو عالم سمجھتا ہے، ایک مکھی دوست سے سوال کیا کہ گنتی ۱۱: ۶، اور استثناء ۱۴: ۷ ،کے مطابق خرگوش جگالی کرتا ہے جب کہ سائنس اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ خرگوش جگالی نہیں کرتا اور یوں گویا با ئبل خدا کا کلام نہیں بلکہ انسان کا ہے۔ میں نے اس بات کو چیلنج سمجھتے ہوئے بڑی تحقیق کی، کافی دوستوں سے پوچھا  تاکہ جو  مسئلہ  ایک  معمہ بنا ہوا ہے وہ حل ہو جائے ۔ میرا نہیں خیال کہ  کسی ہم وطن مسیحی نے اس سوال کے جواب پر قلم اٹھایا ہو،  بلکہ  میں طالب علم ہوں اور سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہوں اور میرا یہ جوا ب مسیحیوں اور غیرمسیحیوں کے ذہن  میں اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا۔لوگ خواہ مجھ پر کیسے ہی تنقیدی اور آتشین تیر کیوں نہ پھینکیں ، میں  نیک سامری کا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کوئی عالم  ہوں بلکہ ایک طالب علم ہوں اور سیکھنے کی جستجو میں لگا رہتا ہوں۔میرا یہ جواب بھی حرفِ آخر نہیں لیکن ممکن ہے کہ میری یہ معمولی سی کاوش سمجھ میں آ جائے۔

 ماہرین میں سے کئی اس بات پر متفق ہیں کہ خرگوش جگالی کرتا لیکن وہ باقی جانوروں کی طرح جیسے گائے، بھینس یا بیل وغیرہ کی طرح جگالی نہیں کرتا۔  وُہ  یہ کہتے ہیں کہ باقی جانور خوراک کھا لیتے ہیں اور پھر  واپس اَپنے منہ میں لا کر اُس کو چباتے رہتے ہیں  اور باریک کرنے کے بعد واپس پیٹ میں بھیجتے ہیں۔ لیکن خرگوش ایسا نہیں کرتا  اُن کا یہ خیال ہے کہ اگرچہ یہ بات  بائبل مقدس میں مرقوم نہیں  کیونکہ یہ کتاب

بیا لوجی کے بارے میں تو نہیں  لیکن ماہرین کے تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ  جب خرگوش خوراک کھاتاہے تو باقی جانوروں  کی طرح براہ راست پیٹ میں بھیج دیتا ہے اور وہ گائے بیل بکری کی طرح واپس تو نہیں لاتا بلکہ براہ راست فضلہ میں خارج کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خرگوش خود اپنا فضلہ کھاتا ہے جیسے سوئر اورکُتا  بھی اپنا فضلہ کھاتے ہیں۔ اور پھر خرگوش اس کو چباتا رہتا ہے اور اس کو جگالی کرنا کہا گیا ہے۔ اگر چہ اس کا جگالی کرنے کا طریقہ منفرد ہے اور یوں خدا کا کلام  سچ  ثابت ہوتا ہے کہ خرگوش جگالی کرتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ سائنس کہتی ہے کہ خرگوش جگالی نہیں کرتا غلط ثابت ہوتی ہے اور خدا کا کلام سچا اور برحق ثابت ہوتا ہے۔

  جگالی  کیلئے  مستعمل ہے Amebeth i" ماہرین لسانیات نے اس بات کو پیش کیا ہے کہ اس لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ خرگوش ہے۔ یہ کوئی ایسا جانور ہے جو جگالی کرتا ہے لیکن اس کے پاؤں چرے ہوئے نہیں ہیں۔ لہذا اس کا گوشت نہیں کھایا جا سکتا۔ یہ تراجم کی بات ہے۔

 یہی سبب ہے کہ ہمارے لوگ اردو اور انگریزی تراجم کے سبب سے الجھ جاتے ہیں۔ تاہم جیسے پہلے  کہا جا چُکا ہے  یہ بات واضح نہیں کہ یہ کونسا جانور ہے۔ خرگوش بھی سائز کے اعتبار سے مختلف ہوتے تھے۔ فلسطین اور شام کے خرگوش فرق اقسام کے تھے۔ آج بھی آپ کو ایسے ہی خرگوش ملیں گے جو سائز اور زنگ کے اعتبار سے اور جائے پیدائش کے اعتبار سے مختلف ہیں۔

 جہاں خرگوش کے اور دیگر جانوروں کے نہ کھانے کی ہدایت کی گئی ہے وہاں اُس کے پیچھے ایک خاص سب بھی ہے۔ خرگوش جہاں اچھی چیزیں کھاتا ہے وہاں و وایسے زہر یلے پتے بھی کھاتا ہے جو انسانی حیات کیلئے مظہر ہو سکتے ہیں۔ سائنس تو آج بول رہی ہے جبکہ یہواہ خدا نے  اَپنی  الہی حکمت سے ہزاروں سال پہلے ہی ان جانوروں کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔  خدا سے بڑھ کرکوئی سائنس نہیں جانتا اور دوسری بات یہ ہے کہ سائنس پہلے نہیں تھی بلکہ خدا پہلے سے موجود ہے۔ اس لیئے ہمیں سائنس کو ترجیح دینے کے بجائے خدا کی بات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم اگر یہاں پر خرگوش بھی بطور ترجمہ مراد لی جائے تو بھی ممنوع ہے۔ جگالی کرنے یا نہ کرنے کی بحث ایک طرف رکھ بھی لیں، پھر بھی پاؤں کا چرا ہوا نہ ہونے کے سبب سے اس کے گوشت کو کھایا نہیں جاسکتا۔ یاد رکھیں کہ اونٹ کا گوشت بھی نہیں کھایا جا سکتا۔ یہ خیال’’ سوارڈ  سرچ ‘‘سے  احبار۱۱: ۶ کی تفسیر سے لیا گیا ہے۔

 یہاں پر میں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ (سورجسے خنزیر) بھی کہا جاتا ہے ، وہ شریعت کے مطابق ضرور منع ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی گندگی کے سبب سے بھی کھانے کے لائق نہیں۔ چونکہ مجھے دنیا میں انجیل  کی تشہیر کیلئے جانا ہوتا ہے  اور کینیا میں ایک بزرگ شخص نے کہا کہ سورنی کتے کیساتھ بھی  جنسی تعلقات رکھتی ہے۔ اس کے ناپاک ہونے کا یہ بھی ایک سبب ہے اور پھر تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ اگر چہ پاکستان میں بھی کینسر کے مریض موجود ہیں لیکن اتنے نہیں جتنے یورپی ممالک میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں سور کا گوشت اکثر کھایا جاتا ہے اور سور کے گوشت میں ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جن سے کینسر جیسی اور اس سے متعلقہ امراض کا لاحق ہونا ممکن ہے۔

خدا باپ کی الہی حکمت کو دیکھئے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کے چُنے ہوئے لوگ ایسی گندی چیزیں کھا ئیں اور بیمار ہو جائیں۔ اس سبب سے اُس نے انہیں  پہلے سے منع کر دیا کہ تم کن جانوروں کا گوشت کھا سکتے ہو اور کن جانوروں کا نہیں کھا سکتے ۔ اگر آپ والدین ہیں تو آپ تجربہ سے جانتے ہوں گے کہ ہم بھی اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دیتے ہیں اور ایسی چیزیں قطعا نہیں دیتے جو ان کی صحت کیلئے مظہر ہیں۔

 خداوند ہمیں حکمت عنائت فرمائے کہ بجائے اس کے کہ ہم تقیدی کیڑے نکالنے والے ہوں، ہم تحقیق کرنے والے  ٹھہریں۔ میں آئندہ بھی آپ کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اگر آپ کا کوئی سوال ہو تو براہ کرم میری ویب سائٹ پر جا کر مجھے ای میل کیجئے اور میں بعد از تحقیق ضرور جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ خداوند آپ کو اپنی برکات سے معمور فرمائے ۔ آمین۔

Back to Questions