Home
Questions And Answers

سوال: عہد حاضر میں جہاں افراتفری کا سماں ہے وہاں پاکستانی کلیسیائی رہنما ہان کیا کر دار ادا کر سکتے ہیں؟

جواب:

عہد حاضر میں جہاں افراتفری کا سماں ہے وہاں پاکستانی کلیسیائی رہنما ہان کیا کر دار ادا کر سکتے ہیں؟

 ایک عرصہ سے میری دلی آرزو تھی کہ اس اہم ترین اور عہد حاضر کی عین ضرورت کے مطابق موضوع پر قلم اٹھایا جائے لیکن شاید مناسب وقت آج ہی تھا۔ اگر میں آج بھی قلم نہ اٹھاتا تو شاید بہت دیر ہو جاتی جب کہ ہر پہلو کے اعتبار سے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔

 پاکستان میں مسیحیت شاید ایک فیصد ہے اور جب سے میں ہوش میں آیا یہی سناتا چلا آیا اور اب جب کئی عشرے گزر گئے تو آج بھی یہی سن رہا ہوں۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ میرا یقین ہے کہ آپ میری باتوں کیساتھ اتفاق کریں گے کہ تاریخ کے اس دور میں پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں گرجا گھر ہیں اور میرے ایک دوست بتاتے ہیں کہ کراچی کی صرف ایک  مسیحی  آبادی ، نام  عیسٰی نگری کی سات گلیوں میں  ۳۲ گرجا گھر ہیں اور جو گھر گھر چرچ کھلے ہیں وہ الگ ہیں۔ اگر کسی بیرون ملک کے خادم کو بلا لیا تو یہ بھی بہت جلد میدان میں آجائیں گے۔ جتنی منسٹریز اس وقت پاکستان میں ہیں پہلے بھی نہیں ہوئیں ۔ ہر دوسرا آدمی مختلف تحریکوں کا چیئر مین اور بانی ہے۔ جتنے پاسبان اور ریورنڈز اور بشپ صاحبان آج نظر آتے ہیں ماضی میں کبھی نہیں ہوئے۔ جتنے بائیل اسکول  و سیمنریز  اس وقت  ہیں اتنی ماضی میں کبھی ہیں ہوئے ۔ ساتھ ہی ساتھ جتنے پیشہ ور اور غیر تعلیم یافتہ لوگ اس خدمت میں چھلانگ لگائے ہیں اتنے ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوئے۔ غیر تربیت یافتہ  اور خدا کی طرف سے بلاہٹ کے بغیرکئی ایسے ہیں جنہیں   پاسٹر صاحب کہلانے اور روٹی کمانے کا ڈھنگ مل گیا ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جن کیلئے  با عزت،  پیسہ کمانے کا بہترین طریقہ یہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی خاص تعلیم کا ہونا بھی ضروری نہیں۔

 لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان قائدین کلیسیاء میں سے اکثر کا ایک دوسرے کیسا تھ  اتفاق اور یگانگت نہیں ہے۔ سرزمین پاکستان میں بے شمار لوگ مسیح کے بغیر ہیں کیونکہ یسوع نام کی منادی نہیں ہوئی۔ مختلف تحریکوں کے رہنماؤں کا ایک دوسرے کیسا تھ ایکا نہیں ہے۔ اگر ایکا ہے تو سب لوگ جانتے ہیں کہ اس ایکے کی بنیاد کیا ہے۔ افسوس کہ یسوع ہمارے پیچھے پیچھے ہے اور ہم اُس کے آگے آگے ہیں۔ یہ روحانی تنزلی اور کلیسیاء میں بگاڑ ہے جو ناسور کی طرح بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہماری عبادات و دعاؤں میں ریا کاری پائی جاتی ہے اور ہم بجائے اس کے کہ کسی گرے ہوئے کو اُٹھا ئیں ،مزید سیاست سے تھپڑ مار مار کر گرا رہے اور زیادہ پست کرنا چاہتے ہیں۔

معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ الزام تراشی عیب جوئی، دو نمبر کام اور جھوٹ ہماری قیادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے کچھ اور اور دکھانے کے کچھ اور ہیں ۔ ہم اندر سے کچھ اور ظاہر میں کچھ اور ہیں۔ ہر ایماندار کو چیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسروں کے ناپنے کیلئے قائدین کلیسیاء نے پیمانہ اپنی جیب میں ڈال رکھا ہوتا ہے جہاں چاہا، ناپا اور پھر فتوی صادر کر دیا۔ ہمارے پیٹ ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتے ۔ اکثر اپنے ٹائٹل ، القابات اور عہدے پر مر مٹنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خاطر خواہ خدمت نہیں ، خدا کی طرف سے کوئی خاص تو ڑا یا نعمت نہیں جس سبب سے ہم اس عہدے یا ٹائل کو کیش کرتے رہتے ہیں اور یہی تو سبب ہے کہ آدمی رات کو سوتا ہے اور صبح پادری صاحب بنا ہوتا ہے اور اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔

شخصی آنا اور مفاد کی خاطر کہ دوسرا بازی نہ لے جائے ہر ممکن طریقہ سے اُس کی جڑیں کا ٹنا تو دور، زمین سے ہی سے نکال دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کلیسیاء میں اس وقت  روحیں  بچانے کی نہیں بلکہ مقابلہ آرائی کی روح ہے۔ روحیں بچانے کی نہیں بلکہ دوسرے کے گلہ پر ڈاکہ ڈالنے کی روح  ہے۔ ارشاد اعظم کی تکمیل کی روح چند انفرادی مبشرین کے پاس ہے۔ قائم شدہ کلیسیاؤں میں سے اکثر کو کھوئے ہوئے لوگوں کی پرواہ ہی نہیں اور بس یہی آیت سناتے رہتے ہیں کہ دیا کرو تو تمہیں بھی دیا جائے گا۔  ابن آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈ نے اور نجات دینے کیلئے آیا۔ ماسوا ایک کام کے اپنا معلوم ہی نہیں کہ میں اس فیلڈ میں کیوں آیا ہوں۔ ابن آدم تو آیا ہی ہے مگر آپ کیوں آئے ہیں؟

 اس وقت پاکستان میں  کئی ۲۹۵ سی کے سبب سے قید ہیں اور موت کا انتظار کر رہے ہیں۔  خود ہی بتائیں کہ پاکستانی کلیسیاء نے اس ضمن میں کیا کیا؟ کتنے کلیسیائی خادموں نے متفق ہو کر روزہ رکھ کر دعا کی ؟ ہم نے کہاں پُر امن احتجاج کیا اور پریس کا نفرنسز کیں۔ فیس بک جہاں ہم بہت کچھ ڈالتے ہیں کہاں ہم نے ان مسیحیوں کیلئے آواز بلند کی ۔ کیا چوہدری طاہر نوید صاحب اور چوہدری پطرس صاحب کے علاوہ اور کوئی نہیں جو نیک سامری بن کر دُوسروں کے زخموں پر مرہم رکھے؟ یہاں تو یوں لگتا ہے کہ ہر سو عام مومنین کی تو بات ہی نہیں اکثر خادم بھی زخموں پر ڈالنے کیلئے نمک اُٹھائے ہوئے ہیں اور عہد حاضر کے فریسی و  فقہا  بن کر پتھر اٹھائے ہیں۔ اگر آج یسوع جسم میں موجود ہوتا تو ایسے ریا کاروں سے کہتا کہ تم میں سے جو بے گناہ ہے وہ پہلا پتھر اٹھائے۔اے ریا کارو مجھ سے دور چلے جائو۔ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ آئیں ہم اچھی باتوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ پست حال لوگوں کو اگر نہیں اُٹھائیں گے  تو کل مجھے کون اُٹھائے گا۔ کل تُو گرا ہوا تھا تو یسوع نے تجھے اُٹھایا تا کہ کل تو دوسروں کو اُٹھائے ۔ خادموں کی بد گوئیاں اور عیب جوئیاں کرنے کے بجائے ان کے پاس جا کر ان کیلئے دعا کریں اور اُن کو حوصلہ  دیں ۔ اگر گر گئے ہیں تو اُنہیں اُٹھائیں ۔  ان کو سیاست کے گھونسے نہ ماریں کیونکہ یسوع نے اُن کیلئے اپنا خون بہایا ہے۔ یہ خادم بڑے قیمتی ہیں جو بار بار پید انہیں ہو تے۔عیب جوئی مت کریں کیونکہ آپ کی بھی کی جائے گی۔ جان رکھیں کہ کوئی بھی فرشتہ نہیں اور نہ ہی یسوع  مسیح ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی کامل نہیں ہے مگر کاملیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

 میں جانتا ہوں کہ شاید میرے اس مضمون پر بھی تنقید ہوگی لیکن میں سر بازار کہنے کیلئے تیار ہوں کہ یسوع گرا تا نہیں بلکہ اٹھاتا ہے۔ آئیں ہم ایک ہو جائیں۔ آئیں مل کر چلیں ، آئیں ایک دوسرے کیلئے روز ہ ر کھ کر دعا کریں۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جائیں۔ خادموں کو بھی آپ کی ضرورت ہے۔ ہم غیر قوموں میں تماشا نہ بنیں۔ خدا کے ممسوح کے برخلاف کبھی بات نہ کریں۔ کہیں خدا آپ کے خلاف نہ ہو جائے ۔ میرا ایمان ہے کہ میری اس کوشش کو سراہا جائے گا اور میرا حوصلہ بلند کیا جائے گا۔ خداوند ہمیں  سمجھ بوجھ اور برکت دے۔آمین 

Back to Questions