Home
Questions And Answers

سوال: ہم جنس پرستی کیا ہے اور خدا کا کلام ان سے متعلق کیا کہتا ہے؟

جواب:

بائبل ہم جنس پرستی سے متعلق کیا کہتی ہے؟

اس سوال پر قلم اُٹھانے کی ضرورت اس لیئے پیدا ہوئی کیونکہ کسی نے یورپ سے یہ سوال پوچھا اور میں نے تحقیق کر کے اس سوال کا جواب دینا ضروری سمجھا۔ جب ہم عبادت کے بعد محو گفتگو تھے تو مختلف سوالات پر بات چیت کا مرحلہ شروع ہو گیا اور یہ بہت ہی قیمتی موقع ہوتا ہے اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے ۔ ان سوالات میں سے ایک یہی سوال تھا۔ میں نے کبھی اس سوال پر سوچانہیں کیونکہ پاکستان میں کبھی کسی نے ایسا سوال نہیں پوچھا اور اگر پوچھا بھی تو مختصر سا جواب دیا۔ لیکن جب میں اس رفاقت میں الوداع کہہ کر اپنی منزل کی طرف رواں ہوا تو میں اپنے آپ سے کہہ رہا تھا کہ اس سوال کے جواب پر تحقیق کر کے قلم اُٹھانا چاہیے تا کہ بہت سے اُردو گولوگوں کیلئے یہ جواب فائدہ مند ہو سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی اور کیلئے یہ جواب فائدہ مند ہے یا نہیں، یہ تحقیق میرے لیے ضرور فائدہ مند رہی ہے۔

عورت کا عورت سے اور مرد کا مرد سے خلاف فطرت جنسی تعلق قائم کرنا یا پسند کرنا اور اسی رشتے میں رہنا ہم جنس پرستی کہلاتا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پر اس طرح کے تعلقات قائم کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے آزادی ہے اور کئی مذہبی رہنما ایسے لوگوں کے نکاح بھی کرتے ہیں۔ یہ مذہبی رہنما اگر ایسے نکاح پڑھنے سے انکار کریں تو انہیں قانون کی سولی پر بھی چڑھایا جا سکتا ہے۔ جبکہ کئی فری چرچ ہیں جو آزاد ہیں اور وہ ایسے نکاح نہ کریں تو اُن پر کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوتا ۔ اب سوال یہ ہے کہ بائبل مقدس اس طرح کے رشتوں سے متعلق کیا فرماتی ہے۔ ہماری رہنمائی کیلئے بائبل مقدس سے بڑھ کر کوئی اور معیار اور کسوٹی ہے نہیں جس کسوٹی پر ہم اس طرح کے عمل کو پرکھ سکیں۔

ابتداء میں خدا نے انسان (مرد) بنایا اور پھر خدا کو خود اچھا نہیں لگا کہ مرد اکیلا ہو۔ چنانچہ خدا نے مرد کیلئے ساتھی کا انتظام کیا اور وہ ساتھی مرد نہیں تھا بلکہ عورت تھی ۔ اگر خدا کی مرضی یہ ہوتی کہ مرد کیلئے مرد ساتھی کا ہی انتظام کیا جائے تو وہ آدم کیلئے مرد کا ہی انتظام کرتا عورت کا نہ کرتا ۔ اگر ایسا ہوتا تو آج اس بدعت اور غیر فطرتی عمل کو جائز قرار دیا جاتا ۔ لہذا خُدا نے جو صاحب حکمت ہے مرد کیلئے عورت کا انتظام کیا ۔ اگر آپ چاہیں تو تو رات کی پہلی کتاب یعنی پیدائش کے پہلے تین ابواب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق بھی ہم جنس پرستی غلط اور نا جائز ہے۔

مرد اور عورت کے ازدواجی تعلق کے قیام کے پیچھے خُدا کا ایک خاص مقصد بھی تھا اور وہ مقصد یہ تھا کہ وہ اولاد پیدا کریں یعنی زمین کو معمور و محکوم کریں ۔ اولاد آدم کے سبب سے زمین معمور و محکوم ہو جائے۔ تولید نسل کا عمل مرد اور عورت سے ہی ہو سکتا ہے، مرد اور مرد یا عورت اور عورت سے نہیں ہو سکتا۔ میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی مرد کبھی ماں بنا ہو کیونکہ یہ فطرت کا تقاضا ہی نہیں ہے۔ لہذا ہم جنس پرستی کے سبب سے تولید نسل کا جو الہی منصوبہ ہے وہ بھی فیل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی خدا کے کئی مقاصد تھے اور اب بھی ہیں کہ مرد سے مرد اور عورت سے عورت ایسے غیر شرعی تعلق قائم نہ کرے کیونکہ محکمہ صحت نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایسے غیر شرعی تعلقات کے سبب سے ایسے جراثیم ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں جن کے سبب سے دونوں کو بہت سی مہلک امراض لاحق ہو سکتی ہیں۔ یادر کھیئے کہ خدا سے بڑا کوئی سائنسدان نہیں ہے۔ اگر اُس نے ایسے تعلقات قائم کرنے سے منع کیا جیسا کہ اُس نے کچھ حیوانات کا گوشت کھانے سے منع کیا تو اُس کی وجہ یہی ہے کہ انسان مہلک امراض سے بچ سکے۔ یہ خُدا کی طرف سے انسان کی اپنی بہتری اور بھلائی کیلئے اُصول ہیں جن کی بنیاد خدا نے خود ڈالی ہے۔ ان اصولوں کو توڑنا موت کو گلے لگانا ہے اور اس کی سزا اس دنیا میں ہی نہ جانتے ہوئے مل جاتی ہے۔ آئیں ذرا بائبل مقدس سے مزید مدد مانگیں کہ وہ اس موضوع پر ہمیں کیا مشورہ دیتی ہے۔

 پیدائش ۱۹: ۱ ۔ ۱۳، میں سدوم شہر کے لوگوں کے ایسے ہی گناہ کا ریکارڈ ملتا ہے جو اُن کی تباہی اور ہلاکت کا سبب بنا۔ اُن کی بدکرداری کے سبب سے سارے سدوم وعمورہ کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا گیا۔ انہوں نے نہ صرف لوط کے مہمانوں کے ساتھ ہم جنسی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ لگتا ہے کہ اس سے پہلے بھی وہ ایسا کیا کرتے تھے تب ہی اُن کے ذہن میں یہ خیال آیا ورنہ وہ ایسا کبھی نہ سوچتے۔

 احبار ۱۸: ۲۲،  ، میں بنی اسرائیل کو بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ساری انسانیت کو شریعت موسوی کے مطابق خبر دار کیا گیا ہے کہ تو مرد کیساتھ صحبت نہ کرنا جیسے عورت سے کرتا ہے یہ نہایت مکر وہ کام ہے۔

احبار ۲۰: ۱۳،  ء میں ایسی گھنونی حرکت کرنے والوں کیلئے سزا کا اعلان ہوا ہے۔ لکھا ہے کہ اگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو اُن دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے سووُ ہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔ اُن کا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔

 رومیوں ۱ : ۲۶۔ ۲۷،  پولس رسول جب رومی کلیسیاء کو الہام کی روح سے یہ خط لکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ اس سے قبل اس طرح کا گھنونا فعل ہوتا تھا کیونکہ پولس ، مثال دیتے ہوئے بات کرتے ہیں کہ اسی سبب سے خدا نے اُن کو گندی شہوتوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ اُن کی عورتوں نے اپنے طبعی کام کو خلاف طبع کام سے بدل ڈالا ۔ اسی طرح مرد بھی عورتوں سے طبعی کام چھوڑ کر آپس کی شہوتوں  میں مست ہو گئے یعنی مردوں نے مردوں کے ساتھ روسیاہی کے کام کر کے اپنے آپ میں اپنی گمراہی کے لائق بدلہ پایا۔

 ۱ کرنتھیوں ۶: ۹ ۔ ۱۱، ، پولس رسول کر نتھس کی کلیسیاء کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ کون آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا !کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے؟ فریب نہ کھاؤ، نہ حرام کا خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے، نہ بت پرست، نہ زنا کار، نہ عیاش ، نہ لونڈے باز ،نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالیاں بلکنے والے، نہ ظالم اور بعض تم میں ایسے ہی تھے بھی ، مگر تم خداوند یسوع مسیح کے نام سے اور ہمارے خدا کے رُوح سے  دُھل گئے اور پاک ہوئے اور راستباز بھی ٹھہرے۔

۱ تیمتھیس ۱: ۸ ۔ ۹ ، میں پولس رسول اس بھید کو کھولتے ہیں کہ شریعت اس لیے دی گئی کہ ہر وُہ کام جو خدا کی مرضی کے خلاف ہے اُس کی بابت ہمیں آگاہ کیا جا سکے  اور ہر عمل کو شریعت کے ترازو پر تولا جائے کہ کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں۔ مذکورہ آیات میں آیا ہے ، مگر ہم جانتے ہیں کہ شریعت اچھی ہے بشرطیکہ کوئی اُسے شریعت کے طور پر کام میں لائے۔ یعنی یہ سمجھ کر کہ شریعت راستبازوں کیلئے مقرر نہیں ہوئی بلکہ بے شرع اور سرکش لوگوں اور بے دینوں اور گنہگاروں اور ناپاکوں اور رِندوں اور ماں باپ کے قاتلوں اور خونیوں اور حرامکاروں اور لونڈے بازوں اور بردہ فروشوں اور جھوٹوں اور جھوٹی قسم کھانے والوں اور ان کے سواصحیح تعلیم کے اور برخلاف کام کرنے والوں کے واسطے ہے۔

 یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی بھی  خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے انسانی عمر میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن جو لوگ ہم جنسی کرتے ہیں اُن کی عمر سگریٹ نوشی کرنے والوں سے کہیں زیادہ کم ہو جاتی ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ خدا نے پہلے ہی سے اس کو نا پسند کیا اور اس کی اجازت نہیں دی۔ ماہرین کے مطابق اس سے بڑے پیمانے پر ایڈز جیسی موذی امراض لاحق ہوتی ہیں جو انسان کو دَرگور کر دیتی ہیں۔ نیز یہ بھی تجربہ میں آیا ہے کہ اس سے پاخانہ کے اخراج کے راستے میں کینسر ہو جاتا ہے اور اس مرض میں مبتلا بہت سے مریض آج کی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

یادر ہے کہ قوانین خداوندی کے برخلاف کوئی بھی کام کیا جائے تو  وُہ لعنت لاتا ہے۔ یہ امراض خاندانوں کی تباہی اور آنے والی نسلوں کی بھی تباہی کا سبب ہوتی ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ خُداوند کے قوانین (شریعت) پر عمل پیرا ہوا جائے اور احکام خداوندی کی فرمانبرداری کی جائے۔ یہ پیغام ہم جنسی کے شکار مردوں اور عورتوں دونوں کیلئے ہے تا کہ اس کو پڑھ کر اپنی سوچیں درست کر سکیں اور خداوند کی مرضی کو اپنی زندگی میں پورا کر سکیں۔ خُداوند اپنی قدرت کے وسیلہ سے اس مضمون کے ذریعہ اپنا کام کر، تا کہ جو لوگ ان لعنتوں میں جھکڑے ہوئے ہیں وه ب یسوع مسیح  کے نام سے آزاد ہو سکیں اور شریعت کی تعلیمات کی پیروی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہونے پائے ۔ اُمید ہے کہ اس مضمون کے وسیلہ سے آپ کے زیور علم میں اضافہ ہوگا۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions