Home
Questions And Answers

سوال: مسیحی تصورِ روزہ پر مختصر روشنی ڈالئے۔

جواب:

 مسیحی تصور روزہ پر مختصر روشنی ڈالئے

چونکہ ہم غیر مسیحی  لوگوں میں رہتے ہیں اور وہ ہم سے بہت سے سوالات پوچھتے ہیں۔ براہ کرم یہ  بتا ئیں کہ مسیحی روزہ کا تصور کیا ہے؟ برادرم و محترم میں انتہائی ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے اس لائق سمجھا کہ آپ کے مذکورہ سوال کا جواب دے سکوں۔ میں ہر ممکن طریقے سے آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا اور کوشش کروں گا کہ روزہ سے متعلق اُٹھنے والے ہر طرح کے سوالات کے اس مضمون میں مناسب جوابات دے پائوں ۔ میں بڑے ایمان سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مضمون بہت سے لوگوں کیلئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اپنے غیر مسیحی  دوست سے یہ کہیں کہ ضروری نہیں کہ جو آپ کے عقائد  ہیں وہ ہو بہو ہمارے بھی ہوں اور جو ہمارے عقائد ہیں وہ آپ کے بھی ہوں۔ جو آپ کے عقائد ہیں وہ ہم میں زبر دستی  ٹھونسنے  کی کوشش نہ کریں ۔ ہمارا اور آپ کا نقطہ نظر بالکل فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ روزہ کا جو تصوّر آپ میں ہے وہی ہم میں ہو لیکن روزہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ روزہ کا تصور مسیحی عقائد میں بھی موجود ہے۔ لیکن اگر آپ کے تیں روزے اور ایک خاص ماہ صیام ہے تو ضروری نہیں کہ یہی بات ہمارے پاس بھی ہو۔ اگر آپ کا کوئی کلمہ طیب ہے تو ضروری نہیں کہ ویسا ہی ہمارا بھی ہو، اگر آپ پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہمارے لیئے بھی پانچ ہی اوقات ہوں۔

 بالکل اسی طرح ہم مسیحیوں میں بپتسمہ ہے مخصوصیت ہے، روحانی پیدائش یا نئی پیدائش کا عقیدہ ہے، خدا کے حضور اپنے مال میں سے دینا ہے، انسانی حقوق کا تصوّر ہے تو ضروری نہیں کہ یہ باتیں آپ کے عقیدے میں شامل ہوں۔ اگر میں آپ کے ایمان میں بالکل یہی باتیں ہو بہو ڈھونڈنے کی کوشش کروں تو یہ میری حماقت کی عکاسی ہوگی۔ ہر ایک دین کا ایک الگ سے نظریہ  فکر ہے اور اُس دین کے پیروکار ،  اس کے مطابق کرتے ہیں۔ جن کتب کو  وُہ الہامی سجھتے ہیں اگر وہ ان ہی باتوں کو بنیاد بنا کر کرتے ہیں تو کسی دوسرے کو ان پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن زیور ِعلم میں اضافے کیلئے یہ پوچھنا کہ آپ کا اس بات کے بارے میں کیا خیال ، عقیدہ یا ایمان ہے اور ہمارا پھر جواب دینا ،ہم اپنے لیے باعث فخر سمجھیں گے۔

 لفظ روزہ کے معنی " اپنی جان کو دکھ دینا“ کے ہیں۔ اس سے مراد قطعی طور پر یہ نہیں کہ جسم کو نشتروں کے ساتھ گھائل کیا جائے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی ہمارا جسم خواہش کرتا ہے اُن سے اجتناب کیا جائے۔ اس میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت نفسانی خواہشات اور بہت کچھ اور شامل ہے ممکن ہے میں ان باتوں کا مختصر طور پر  ذکر کروں۔

 دوسری بات یہ ہے کہ اہل کلیسیاء روزہ کے قائل ہیں اور کوئی کبھی بھی یہ نہیں کہے گا کہ روزہ نہیں رکھنا چاہیئے ۔ روحانی سورماؤں کے تجربہ کے مطابق روحانی جنگ میں فتح یابی کا سب سے بہترین ہتھیار دُعا اور روزہ ہی ہیں۔ تورات شریف اور صحائف الانبیاء میں روزہ کا تصوّر موجود ہے لیکن خاص ضرورت کے تحت خاص وقت پر روزہ رکھا گیا۔ مقدس موسیٰ نے شریعت موسوی کے حصول سے پیشتر چالیس ایام کا روزہ رکھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے دیدار اور اُس کی حضوری میں جانے کیلئے موسیٰ کو خاص تیاری کی ضرورت تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ روزہ میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ سووُہ  چالیس دن اور چالیس رات وہیں خداوند کے پاس رہا اور نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا اور اُس نے اُن لوگوں پر اس عہد کی باتوں کو یعنی دس احکام کو لکھا ( خروج ۲۸:۳۴) ۔ ایلیاء نے بھی اسی طرح روحانی قوت پانے کیلئے چالیس دن کا روزہ رکھا ۔تب اُس نے اُٹھ کر کھایا پیا اور اُس کھانے کی قوت  کے سبب سے چالیس دن اور چالیس رات چل کر خدا کے پہاڑ حورب تک گیا (اسلاطین ۸:۱۹)۔

قوم کے بچانے کیلئے آستر ملکہ نے بھی روزہ کا اعلان کروایا اور یہودیوں میں سے ہر خاص و عام نے روزہ رکھا اور موت کے منڈالتے ہوئے بادل اُڑ گئے اور ان کے خلاف دشمن کا بنایا ہوا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ تب آستر نے اُن کو مردکی کے پاس یہ جواب لے جانے کا حکم دیا کہ جا اور سوسن میں جتنے یہودی موجود ہیں اُن کو اکٹھا کر اور تم میرے لیئے روز ہ رکھو اور تین روز تک دن اور رات نہ کچھ کھاؤ نہ  پیو۔ میں بھی اور میری سہیلیاں بھی اسی طرح روزہ رکھیں گی اور ایسے ہی میں بادشاہ کے حضور جاؤں گی جو آئین کے خلاف ہے اور اگر میں ہلاک ہوئی توہلاک ہوئی (آستر ۴: ۱۵-۱۶)۔

 نینوہ اپنی ہی شرارت کے سبب سے قہر الہی کی نظر ہونے کو تھا لیکن خدا نے یوناہ نبی کو بھیج کر منادی کروائی اور ملک کے ہر خاص و عام نے روزہ رکھا ، ٹاٹ اوڑھا، اپنے آپ کو خاکسار اور فروتن بنایا اور توبہ کی۔ یہاں تک کہ جانوروں نے بھی کچھ نہ کھایا پیا۔ تب یونا ہ خدا کے کلام  کے مطابق اُٹھ کر نینوہ کو گیا اور نینوہ بہت بڑا شہر تھا۔ اُس کی مسافت تین دن کی راہ تھی۔ اور یوناہ شہر میں داخل ہوا اور ایک دن کی راہ چلا اُس نے منادی کی اور کہا چالیس روز کے بعد نینوہ بر باد کیا جائے گا۔ تب نینوہ کے باشندوں نے خدا پر ایمان لاکر روزہ کی منادی کی اور ادنی و اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا (یونا ہ  ۳: ۴-۵)۔ اس کے نتیجہ میں خدا نے اُس عذاب کو نازل نہیں کیا جس کو وہ نازل کرنے کو تھا۔

 لیکن ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مسیح خداوند نے بھی دریائے یردن پربپتسمہ پانے کے بعد بقیہ تین یا ساڑھے تین سال خدمت کرنے سے پیشتر جسم میں ہوتے ہوئے چالیس ایام کے روزے نہیں بلکہ ایک ہی روزہ رکھا۔ اس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تا کہ ابلیس سے آزمایا جائے اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اُس کو بھوک لگی (متی ۲:۱-۴) ۔ گویا مسیح نے بھی روزہ رکھنا ضروری جانا اور اگر یسوع مسیح کیلئے ضروری تھا تو میرا اور آپ کا اپنے لیئے روزہ رکھنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

 یہاں پر ایک بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں اور وُہ یہ ہے کہ جو براہ نام روزہ ہے یعنی جو لکیر کے فقیر کے طور پر رکھا جاتا ہے اُس سے خُدا کوئی خوشی نہیں اور ایسے روزے کو وُہ قبول نہیں کرتا۔ اس سے لگتا ہے کہ جہاں خداترسی کے ساتھ روزہ رکھا گیا وہاں ریا کاری پرمبنی روزے بھی رکھے گئے۔ میں یہاں پر اپنے الفاظ لکھنے کے بجائے  وہی  الفاظ لکھنا چاہتا ہوں جو خدا کے کلام میں لکھے ہوئے ہیں۔’’ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کس لیے روزے رکھے جبکہ تو نظر نہیں کرتا اور ہم نے کیوں اپنی جان کو دکھ دیا جبکہ تو خیال میں نہیں لاتا۔ دیکھو تم اپنے روزہ کے دن میں اپنی خوشی کے طالب رہتے ہو اور سب طرح کی سخت محنت لوگوں سے کرواتے ہو۔ دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔ پس تم اب اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے ۔ کیا یہ وہ روزہ ہے جو مجھ کو پسند ہے؟ ایسا دن کہ اس میں آدمی اپنی جان کو دکھ دے اور اپنے سر کو جھاؤ کی طرح جھکائے اور اپنے نیچے ٹاٹ اور راکھ بچھائے؟ کیا تو اس کو روزہ اور ایسا دن کہے گا جو خداوند کا مقبول ہو ؟ کیا وہ روزہ جو میں چاہتا ہوں یہ نہیں  کہ ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کھولیں اور مظلوموں کو آزاد کریں بلکہ ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں۔ کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکوں کو کھلائے اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اُسے پہنائے اور تو اپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے؟ (یسعیا ہ  ۵۸: ۳ ۔ ۴  )۔

 اسی سیاق و سباق کو مد نظر ر کھتے ہوئے مسیحا نے بھی ریا کاری کا روز و ر کھنے سے منع فرمایا کیونکہ اس کا خدا کی طرف سے کوئی اجر نہیں ہوتا ۔’’ اور جب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنی صورت اُداس نہ بتاؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تا کہ لوگ ان کو روزہ دار جانیں میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے ۔ بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھوتا کہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے ۔ اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا (متی  ۵ : ۱۶ ۔ ۱۸ )۔

 جو عہد عتیق میں روزے رکھے گئے وُہ لکیر کے فقیر کے طور پر نہیں بلکہ خاص ضرورت کے وَقت با مقصد روزہ رکھا گیا ۔وہاں قوم بنی اسرائیل پر مسلط نہیں کیا گیا تھا کہ تمہارے لیے ہر سال فلاں مہینہ روزوں کا مہینہ ہوگا۔ جہاں خدا نے شریعت دی اور احکام عشرہ دیئے وہاں وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ہر سال مخصوص تعداد میں تمہیں روزے رکھنے ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح تعلیمات المسیح کے مطابق مسیحا کے پیروکاروں کومسیح نے روزوں سے متعلق  کوئی نئی شریعت نہیں دی۔ مسیحا نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ میں نے چالیس دن کا روزہ رکھا ہے لہذا تم بھی رکھنا ورنہ تم میرے لائق نہیں ہو۔ مسیحا نے صلیب سے پیشتر نہیں بلکہ اپنی خدمت کے آغاز میں یہ روزہ رکھا تھا۔ جبکہ ۳۲۵ ، عیسوی میں جو چالیس روزے بزرگان کلیسیاء کی طرف سے رائج ہوئے ؟ وہ صلیب سے پیشتر ہیں۔

 کئی اصحاب نے مجھ سے روزہ کے اوقات کے بارے میں بھی سوالات پوچھے کہ کتنے بجے رکھیں اور کتنے بجے کھولیں۔ میرا آسان ترین جواب یہ ہے کہ ہر شخص کیلئے یہ شخصی بات ہے کہ کتنا لمبا روزہ رکھے۔ میں شخصی روزہ کی بات کرتا ہوں ۔ عام طور ہر چو بیسں ۲۴ ، گھنٹے کا روزہ رکھا جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی کیلنڈر کے مطابق دن کا آغاز شام چھ بجے سے ہوتا تھا اور دوسرے دن شام چھ بجے تک دِن ہوتا تھا۔ جب یہودی لوگ روزہ رکھتے تو وہ ایک دن یعنی ۲۴ گھنٹے کا رکھا کرتے تھے۔ تاہم یہ کوئی لازمی شریعت نہیں ہے۔ اگر ۲۴ گھنٹے کا روزہ  رکھ سکتے ہیں تو رکھیں ورنہ خود اپنی لیے وقت کا تعین کر لیں اور اس کے مطابق روزہ کھولیں۔ لیکن اجتماعی روزہ  سب کے ساتھ رکھیں اور کھولیں خواہ و ہ کلیسائی روزہ ہو یا قومی اعتبار سے یا خاندانی طور پر ہو کیونکہ یہ یگانگت اور ہم آہنگی کو پیش کرتا ہے۔ یادرکھیں کہ اگر آپ کوئی دوائی کھاتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے روزہ لکھیں۔

 کئی لوگ کہتے ہیں کہ اتوار کا روزہ نہیں ہوتا کیونکہ روزہ کا مطلب اپنی جان کو دکھ دینا ہے جبکہ اتوار کا دن فتح یابی کا دن ہے کیونکہ یسوع  مسیح  مردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔ لیکن بائبل مقدس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ اتوار کو روزہ نہیں ہوتا۔ یسوع مسیح نے فرمایا اور جب تم روزہ رکھو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اتوار کو روز ہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی رکھنا پسند کرے تو ضرور رکھیں ۔ یہ وہ غلط فہمیاں ہیں جنہیں میں دور کرنا فرض اولین سمجھتا ہوں ۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور بات بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ روزہ کے ایام میں گوشت اور مچھلی نہیں کھائی جاسکتی۔ میں پھر سے کہوں گا کہ بائیل مقدس میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایام روزہ میں آپ سب کچھ جو کھانے پینے کا ہے ، کھاپی سکتے ہیں کسی طرح کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

 روایات بتاتی ہیں کہ ابتدائی مسیحیت میں مرغوب و مہنگی اشیاء خوردونوش سے پر ہیز کیا جاتا تھا۔ اس کی کوئی مذہبی وجہ نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھے کہ ایماندار ان اعلیٰ کھانوں کے پیسے بچا کر الگ کر لیتے اور ان پیسوں کو وہ غریب اور ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ وہ اپنا بینک بیلنس نہیں بناتے تھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ روزہ کے تعلق سے آپ کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے جوابات آپ کو مل ہی گئے ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ خداوند ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم روایات سے نکل کر بائبل مقدس کی طرف رجوع لائیں۔ خداوند آپ کو برکت بخشے۔ آمین۔

Back to Questions