Home
Questions And Answers

سوال: آشر کی کتاب بائبل مقدس میں کیوں شامل نہیں؟

جواب:

آشر کی کتاب بائبل مقدّس میں کیوں موجود نہیں؟

میں نے سوال نمبر ۷۲، میں اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ حنوک  کی کتب کی طرح کچھ اور بھی ایسی کتب میں جن کا بائیل مقدس میں ذکر ہے اور آئندہ شمارے میں ان کی بابت بھی کچھ لکھوں گا۔ لہذا خادم پھر سے  حاضر ہے تاکہ اُن کتب پر بھی کُچھ لکھا جائے  اور اچھا ہو گا کہ اِس کے بعد اِن سوالات پر بات نہ ہی کی جائے کیوں کہ بہت کُچھ اور سیکھنے کیلئے ہے۔

 ’’آشر کی کتاب" کا عبد عتیق میں دو مقامات پر ذکر ہوا ہے۔ اس کو ’’ یاشر کی کتاب ‘‘بھی کہا گیا ہے۔ اس کتاب کا پہلی بار  یشوع ۱۰: ۱۳، میں ذکر ہے۔ ’’اور اس دن جب خداوند نے اموریوں کو بنی اسرائیل کے قابو میں کر دیا تو یشوع نے خداوند کے حضور  بنی اسرائیل   کے سامنے یہ کہا۔ اے سورج تو جبعون  اور اے چاند تُو وادی  ایالون میں ٹھہرا رہ  اور سورج ٹھہر گیا اور چاند  تھما رہا۔ جب تک قوم نے اَپنے دُشمنوں سے انتقام نہیں لے لیا‘‘ کیا یہ آشر کی کتاب میں نہیں  اور سورج آسمان کے بیچو بیچ ٹھہرا رہا اور تقریباً سارا د،ن ڈوبنے کی جلدی نہ کی‘‘۔اس حوالے میں خدا نے اپنی قدرت سے آسمان کے بیچ  میں سورج کو روک دیا تاکہ یشوع اور اسرائیل جس جنگ میں شریک ہیں  وُہ  روشنی ہی میں جیت پائیں۔ یشوع  اس بات پر غور کرتا ہے کہ یہ  بات آشر کی کتاب میں اس طرح لکھی ہوئی ہے۔  وُہ یہ نہیں کہہ رہا کہ آشر کی ساری کی ساری کتاب ٹھیک ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں اور اس کو بائبل مقدّس کی دیگر کتب میں  شامل ہونا چاہیئے تھا۔

دوسرا مقام جہاں آشر کی کتاب کا ذکر ہے  وُہ ۲ سیموئیل ۱: ۱۸۔ ۲۷  آیات ہیں ۔ چونکہ یہ حوالہ  ذرا طویل ہے اس لیئے میں یہاں پر اس کو نہیں لکھنا  چاہتا۔ اچھا ہوگا کہ خودہی کتاب مقدس سے اس حوالے کو تلاوت کر لیں۔ اس حوالے میں  وُہ  نوحہ ہے جو داؤد نے ساؤل اور اس کے بیٹے  یونتن  کی موت پر لکھا۔ پھر سے کہتا چلوں کہ یہاں پر اس کتاب کے پس منظر کا کوئی ذکر نہیں  بلکہ  یہی ذکر ملتا ہے  کہ یہ بات کہیں اور لکھی گئی تھی۔

لگتا ہے کہ بائبل مقدّس کے زمانے میں اس کتاب کا وجود تھا لیکن داؤد کے زمانے کے بعد اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں کہا جانے لگا کہ ایک انگریز عالم جس کا نام الکائن تھا اُس نے اس کتاب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حواصل میں ’’آثر کی کتاب‘‘ تھی اس کا بائبل مقدس میں زیر بحث حوالوں کے سوا اور کہیں ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی وہ موجود ہے۔ اگر یہ واقعی اصل میں الہامی کلام ہوتا تو آج پ بائبل مقدس میں موجود ہوتا۔ اغلب ہے کہ ’’آشر کی کتاب ‘‘ لاطینی زبان میں لکھی گئی جوقدیم عبرانی گیتوں کا مجموعہ تھا۔ اس منظوم کلام میں اسرائیلی جنگی سورماؤں اور ان کی فتوحات کی تعریف کی گئی تھی۔

آپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کتاب کا حوالہ بائبل مقدس میں پیش کیا گیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ یہ کتاب بائبل مقدس کی ملہم کتب میں شامل نہیں ہے؟۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جب خدا کا کلام تحریر کیا جارہا تھا تو خدا نے انسانی مصنفین کی رہنمائی فرمائی کہ وہ کئی اور وسائل اور ذرائع کا بھی استعمال کریں۔ یشوع  ۱۰: ۱۳، والا حوالہ اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس جنگ کا ذکر کرتے ہوئے  یشوع یہ کہتا ہے کہ اگر میری باتوں کا یقین نہیں تو جاؤ ’’ آشر کی کتاب‘‘ میں دیکھو کیونکہ اس میں بھی ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔ اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ یشوع   کے پاس بس یہی واحد وسیلہ تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا بلکہ یہ حوالہ اس لیئے دیا کیونکہ اس وقت وہ لوگ اس کتاب سے واقف تھے۔

کئی اور بھی عبرانی کام ہیں جن کی بابت خدانے  بائبل  مقدّس کے لکھنے میں انسانی مصنفین کی رہنمائی کی کہ  وُہ  اُن کاموں کا بھی ذکر کریں۔ ان میں سے ’’خداوند کا جنگ نامہ‘‘ہے اور اس کا ذکر گنتی ۲۱: ۱۴ ،  میں پایا جاتا ہے۔ پھر سیموئیل غیب بین کی تاریخ ناتن نبی کی تاریخ اور جادغیب بین کی تاریخ کا ذکر ۱ تواریخ ۲۹: ۲۹ ، میں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ رُحبعام کے کام اوریہوداہ  کے بادشاہوں کی تاریخ کا بھی اسلاطین ۱۴: ۲۹  میں ذکر ہوا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سلیمان نے ایک ہزار سے زائد گیت لکھتے ہیں ، ۱ سلاطین ۴: ۳۲،  جن میں سے زبور کی کتاب میں صرف دوہی موجود ہیں یعنی زبور ۷۲، اور ۱۲۷۔عہد جدید میں رُوح القدس کی تحریک سے ططس ۱: ۱۲ میں لکھتے ہوئے پولس رسول کریتے کے ایک شاعر کا ذ کر کرتا ہے اور اتھینے میں کی جانے والی تقریرمیں  وُہ اور شاعروں کا بھی  اعمال ۱۷: ۲۸ ،  میں ذکر کرتا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ کلام مقدّس کا جو اِلہی مصنف ہے اس نے جیسے مناسب جانا مختلف ذرائع استعمال کیئے تا کہ ہرایک بات جو اُس کے از لی  ارادہ کے موافق درست بیٹھتی تھی اس کا استعمال کرے ۔ ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ  تاریخِ بائبل مقدس چپکے سے  وقوع پذیر نہیں ہو گئی ۔ جن لوگوں کا بائبل مقدس میں  ذکر ہے  اُن کے دوسرے لوگوں کیساتھ تعلقات و مراسم تھے۔ مثلاً بائبل مقدس فرماتی ہے کہ ایک ہی خدا ہے  لیکن   اس کے باوجود بائبل مقدس یہ بھی فرماتی ہے  کہ اسرائیل میں بھی اور اُن سے باہر بھی لوگ کئی خدائوں  یعنی دیوتائوں کو مانتے تھے۔بالکل ایسے ہی جیسے اعمال  ۱۷: ۲۸، اور ططس  ۱: ۱۲ میں بیان  ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عام لوگوں کی تصانیف سے بھی حوالے لیئے گئے ہیں۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جہاں سے یہ حوالہ جات لیئے گئے ہیں وہ  ملہم ذرائیع تھے۔ اس کا بس یہ مطلب ہے کہ  اُنہو ں نے  بات کو واضح  کرنے کیلئے  وہاں سے حوالہ لینا مناسب سمجھا گیا ہے۔

 ایک اور کتاب بھی جس کو ’’یاشر کی کتاب‘‘ کہا جاتا ہے اور عبرانی زبان میں لکھی گئی وہ بھی آشر کی کتاب نہیں جس کا بائبل مقدس میں ذکر ہے۔ اس میں تخلیق سے لے کر یشوع کی سربراہی میں کنعان کی فتح تک کے یہودی سورماؤں کا ذکر پایا جاتا ہے۔ لیکن علماء بیان کرتے ہیں کہ  ۱۸۲۶ عیسوی  سے پیشتر اس کتاب کا وجود نہ تھا۔ اگر چہ اس کتاب میں کئی یہودی رہنمائوں اور علماء کے علم الہی  پر مبنی  کام بھی ہیں لیکن اس میں سے کوئی بات بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ اصل میں’’  آشر کی کتاب ‘‘ہے۔

 حرف آخر کے طور پر یہی کہوں گا کہ زیر بحث مضمون میں ’’آشر کی کتاب‘‘سے جو دو حوالہ جات دیئے گئے ہیں اس کے علاوہ کوئی ایسا وسیلہ نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ اس کتاب کا وجود ہے۔ یہ غیر الہامی و غیر معتبر کتاب ہونے کے سب سے محفوظ نہیں کی گئی اور نہ ہی  بائبل  مقدس میں اس کو شامل کیا گیا ہے۔ امید واثق ہے کہ جواب مل گیا ہوگا ۔ خداوند آپ کو اپنی برکات سے معمور فرمائے ( آمین )۔

Back to Questions