Home
Questions And Answers

سوال: مسیحی ایمان کے مطابق آخرت کے نشان کیا ہوں گے؟

جواب:

مسیحی ایمان کے مطابق آخرت کے نشانات کیا ہوں گے؟

عہد حاضر میں ہر طرف افرا تفری کا سا سماں  ہے۔ خوف دہشت مظالم لڑائیاں قدرتی آفات اور کشت و خون ہر بشر کیلئے پریشانی کا موجب ہیں۔ ایک سوال جو یسوع مسیح کے شاگردوں نے پوچھا و ہ آج بھی پوچھا جاتا ہے اور وُہ سوال یہ ہے اور جب  وُہ  زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اُس کے شاگردوں نے الگ اُ س کے پاس آکر کہا کہ ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا ؟ (متی ۳:۲۴ : لوقا ۲۱: ۷،  مرقس ۳:۱۳)۔

میں یہاں پر بائبل مقدس کو بنیاد بناتے ہوئے مختصرسی ایک فہرست پیش کرنا چاہوں گا جو آخری زمانے کی نشانیوں سے متعلق ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی آخرت سے متعلق نشانیاں ہیں لیکن یہ چند ہماری مدد کریں گی کہ جب آج ایسا ہو رہا ہے تو ہم جانیں کہ  مسیح یسوع کی آمد قریب ہے اور اس کی آمد سے پیشتر یہ باتیں ہو کر رہیں گی۔ لہذا اس کی آمد کیلئے مکمل طور پر تیار ہو جانا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔ امید کرتا ہوں کہ کلام مقدس کے طلباء وطالبات کیلئے یہ فہرست بڑی  دِلچسپی  کی بات ہوگی۔

  ایسے جھوٹے اساتذہ پیدا ہوں گے جن کا خدا پیسہ اور اُن کا پیٹ ہو گا۔ اُن کے پیرو کا بھی بہت سے ہوں گے۔ رُوحانیت کی جگہ جسمانی اور نفسانی با تیں لے لیں گی (۲پطرس ۲ : ۱ ۔ ۳ )۔

 زمانے کے اختتام پر لوگ طبعی محبت سے خالی ہوں گے اور ہم جنس پرستی عروج پر ہوگی (۲  تیمتھیس ۳: ۳ ) ۔ دنیا کے کئی ممالک میں ہم جنس پرستوں کے حقوق ہیں اور ان کی شادیاں ہوتی ہیں۔ وُہ سر عام ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ہم ایسے لوگ ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان میں انسانیت پائی جاتی ہے۔ جبکہ کئی ایسے ممالک بھی ہیں جہاں پردہ کے پیچھے سب کچھ ہوتا ہے۔

 بھونچال آئیں گے (متی ۷:۲۴) ۔ گزرے سالوں میں ایسے  تباہ کُن بھونچال آئے کہ ایک تاریخ رقم کردی۔  سرزمین پاکستان کی تاریخ میں شمالی علاقہ جات میں ایسا زلزلہ آیا جس نے ہماری تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کیا۔

ہر سوبرائی ہی برائی ہوگی (۲ تیمتھیس ۳: ۱) ۔ ابھی ٹیلی وژن آن کریں اور آپ کو ماسوالڑائی کے کچھ بھی نہیں سنائی دے گا یا دیکھنے کو ملے گا۔ اخبارات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ فلاں جگہ پہ کیا ہو گیا۔

 لڑائیوں کی بھر مار ہوگی (متی ۶:۲۴) ۔ افغانستان، عراق، شام اور اسرائیل فلسطین کا تنازعہ عرصہ سے چل رہا ہے۔ میں اس وقت سن عیسوی کے اعتبار سے ۲۰۲۵ء میں ہوں۔ اس وقت عالمی طور پر دنیا میں افرا تفری ہے اور یہ صرف ایک ٹریلر ہے۔ جوں جوں وقت کی گھڑی چلتی ہے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ حالات بہتری کے بجائے اور زیادہ  تنزلی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

لوگ احکام عشرہ کو چھوڑ دیں گے اور اس کے بدلے برائیوں کے مرتکب ہو جائینگے (متی ۱۲:۲۴) ۔ بت پرستی سبت کی بے حرمتی ، لالچ ، چوری اور ہر طرح کی کرپشن اپنی مثال آپ ہیں۔

 دینداری محض بطور دکھاوا ہوگی اور اُس کا اثر نظر نہیں آئے گا (۲ تیمتھیسں ۵:۳) ۔ عبادات میں مذہبی رسومات اور روایات اور ریا کاری کا جال بچھا ہوا ہے۔ میں مذاہب عالم کی بات کرتا ہوں اور سب کو نظر آرہی رہا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ چاند چڑھتا ہے تو سب کو نظر آتا ہے۔

لوگ حقائق کے بجائے من گھڑت باتوں اور روایات کی طرف متوجہ ہوں گے (۲  تیمتھیس ۴: ۴ ) یوم ولات  المسیح   پر اس بات کی  تصویر آپ کو واضح طور پر نظر آ جائے گی۔ ہمارے ملبوسات اور رنگ روغن بازی لے جاتے ہیں اور مسیح کو بس چرنی میں ہی رہنے دیتے ہیں اور وہاں سے اُسے باہر نہیں نکلنے دیتے۔ جیسے بعض صلیبوں پر یسوع آج بھی لگا ہو انظر آتا ہے جبکہ جس یسوع کو میں جانتا ہوں و واب صلیب پر  نہیں۔ لوگ مسیح کو ایک طرف کر کے سینٹا کلا ئوس اور کرسمس ٹری کو زیادہ اہمیت دینا شروع ہو جاتے ہیں۔

 کال ، قحط اور خشک سالی بڑھ جائے گی۔ (متی ۲۴: ۷ )۔ افریقہ اور دنیا کے کئی ممالک جن میں ایتھوپیا بھی شامل ہے اس کے بھی کئی علاقوں میں اس وقت لوگ بھوکے ہیں۔

 لوگ امن کیلئے پکاریں گے (۱ تھسلنیکیوں ۵ : ۳ )۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا اس وقت کسی مسیحا کی آمد کیلئے پکار رہی ہے کہ آ کر ہمیں امن و آشتی کا سورج دکھائے۔ پاکستانی عوام کسی بھی حکمران سے خوش نہیں ہوئی ۔ کیا اس کی یہی وجہ نہیں ہے؟۔

 علم و دانش عروج پر ہوں گے ( دانی ایل ۱۲: ۴ )۔ سائنس نے کہاں تک ترقی کرلی۔ یورپی یونین نے بھی اتنی ترقی کر لی کہ شاید آنے والے سالوں میں کیش  ختم ہی ہو جائے اور  سارا کام کارڈ کے ذریعہ ہی ہو۔ایٹم  بم  اور  جدید آلات،   کیمیائی ہتھیار ایسے ہیں کہ انسان نے اپنی ہلا کت کا سامان  اَپنے ہاتھوں سے ہی تیار کر لیا ہے۔

 کلیسیاء  میں  ریا  کاری پائی جاتی ہے(متی ۱۳: ۲۵ ۔ ۳۰ )۔ مراد یہ کہ ارشادِ اعظم کی تلاوت تو ہو گی لیکن  باہر  فرمانبرداری کیلئے کوئی نہیں جائے گا۔  اور ہم سب اس کے مجرم ہیں۔ کہ ارشاد عظیم پڑھا جائے گا لیکن  جن باتوں کی تعلیم دی جائے گی اُس تعلیم کی عکاسی نظر نہیں آئے گی۔

 بے شمار لوگوں کو مستقبل تاریک اور خوفناک لگے گا ( لوقا ۲۶:۲۱)۔ اس وقت  کُرہ ارض پر امیر و غریب، شاہ و گدا غرضیکہ سبھوں پر نا امیدی کی سیاہ گھٹا اور موت کا خوف طاری ہے۔ ہلاکت و تباہی کو روز بروز قریب آتے ہوئے دیکھے رہے ہیں۔ خود فرضی ، مایوسی ، مالی بحران اور معاشرتی بے راہ ر وی کے سبب سے ہر کوئی صبح نو کے طلوع ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ہر شخص کا  چہرہ مایوسی کے بول بول رہا ہے۔

 قوام عالم میں انجیل ( خوشخبری) کی منادی ہو چکی ہوگی (متی ۱۴:۲۴)۔ دنیا بھر میں اس وقت ریڈیو ٹیلی وژن، اخبارات و جرائد، لٹریچر انٹرنیٹ م، ویب سائٹس اور  روحانی  سورمائوں کے وسیلہ سے خوشخبری دی جاچکی ہے۔ شاید ہر بشر تک نہ  گئی  ہو لیکن ہر قوم قبیلہ ، اہلِ زبان تک  خوشخبری یعنی خوشخبری پہنچ چکی ہے۔

 مسیح کے نام کے سب سے مسیحیوں سے نفرت کی جائے گی (متی ۹:۲۴)۔ اگر چہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں میں ایسا نہیں ہے تاہم زیادہ تر لوگ مسیحیوں کو اور ان کی بستیوں کو عجیب ناموں سے پکارتے ہیں کہ جیسے ہم سب سے زیادہ حقیر اور گرے ہوئے ہیں اور اُن پر جھوٹے الزامات لگا کر بستیاں ویران کر دی جاتی ہیں۔

 اجرام فلک  ہلائے جائیں گے اور ان پر عجیب عجیب نشانات ظاہر ہوں گے ( لوقا  ۲۱: ۲۵۔ ۲۶ ) و ُہ حضرات جو خبریں سنتے اور اخبارات پڑھتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ چاند پر کیا ہو رہا ہے اور دیگر ستاروں کے بارے میں بھی کہ ان کیساتھ کیا ہو رہا ہے۔

لوگ کہیں گے کہ یسوع مسیح کے آنے کا وعدہ ابھی پورا کیوں نہیں ہوا ( ۲ پطرس ۴:۳)۔ مقدس پطرس فرماتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسا خیال کرینگے کہ یسوع کی آمد کہاں ہے ؟ ابھی تک کیوں نہیں آیا۔ لیکن وُہ یہ  نہیں سمجھتے کہ خداوند اپنی آمد میں دیر نہیں کرتا جیسی بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تحمل کرتا ہے کہ ہر ایک کی تو بہ تک نوبت پہنچے کیونکہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا۔

 مخالف مسیح کا ظہور ہوگا ( مکاشفہ ۱۹:۱۹)۔ اگر چہ مخالف ِ مسیح  ایک شخص ہو گا جو بطور قائد کام کرے گا اور اپنے پیروکاروں کو خاص نمبر دے گا جس نمبر کے بغیر کوئی خرید وفروخت نہیں کر پائے گا۔ مسیح کے پیروکاروں کا خاتمہ کرنے کی کوشش میں بہت زیادہ خون بہائے گا۔ اس کے علاوہ آج بھی مخالف مسیح کی روح کام کرتی ہے جو اہل کلیسیاء کی نسل  کُشی میں سرگرداں اور مسیح یسوع کی منکر ہے۔

 مسیح  کے نام سے  جھوٹے مسیح اُٹھ کھڑے ہوں گے اور یسوع مسیح ہونے کا دعوی کریں گے (متی  ۲۴: ۴ ۔ ۵ )۔  پاکستان میں بھی اور دنیا کے کئی ایسے علاقے رہے جن میں انگلینڈ بھی شامل ہے جہاں  مسیح کے نام سے جھوٹے  مسیح اُٹھے اور چند لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک کے  پیرو کار آج بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں اور یسوع مسیح کے مخالف ہیں۔

 قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی (متی ۷:۲۴) ۔ میرے خیال میں اگر اور کچھ بھی نہ کہوں تو عراق ایران ، افغانستان، اسرائیل ، روس، یو کرائن  اور کویت کی جنگیں کوئی زیادہ پرانی نہیں ہوئیں اور یہی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کسی طرح سے قوم پر قوم چڑ ھائی کرتی ہے۔

 مسیحی لوگوں کو قتل کیا جائے گا (متی ۹:۲۴) - عراق، شام، نائجیریا، ہندوستان ، انڈو نیشیا اور پاکستان اس کا منہ بولتے ثبوت ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مسیحیوں کو گولیوں سے بھون کر ایک ہی قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے (متی ۱۱:۲۴: متی ۲۴:۲۴) ۔ خداوند یسوع مسیح کے اس قول کے مطابق آج تک بے شمار لوگوں نے نبی ہونے کا دعوی کیا اور ان کے دنیا میں بے شمار پیرو کار بھی ہیں جو ان کے نام پر مر مٹنے کیلئے ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے سارے ہی بر اعظموں میں ہوئے ہیں۔

بے دینی عروج پر ہوگی (متی ۱۲:۲۴) ۔ دنیا کے تمام ممالک میں   خواہ وُہ جغرافیائی اعتبار سے کہاں ہی کیوں نہیں،   بے دینی زوروں پر ہے۔ اخلاقی بے راہ روی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ داعش نے شام اور عراق میں کیا کیا کیا۔ کیا یہ اخلاقی باتیں ہیں ؟

 محبت کا جنازہ اٹھ جائے گا (متی ۱۲:۲۴) ۔ میں  مسیحی  محبت کی بھی بات کرتا ہوں جو کلیسیاء میں ہونا واجب ہے لیکن  اُسکا نام ونشان تک نہیں ملتا ۔ خاندانوں میں اور مذاہب میں محبت نا م کی کوئی چیز ہی نہیں  ہے۔ اگر ہے تو بے دین لوگوں میں اور وُہ بھی مغرب میں  کہیں  نظر آتی ہے۔ جو نئی پیدائش پائے ہوئے مسیحی نہیں ہیں لیکن ان کی زندگی میں جہاں کمزوریاں ہیں وہاں محبت عروج پر ہے ورنہ  وُہ  فلسطین، عراق اور شام کے لوگوں کیلئے  بلا مذہبی  تفریق کے دروازے نہ کھولتے۔ پاکستان میں جہلم کے قریب سگے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کیساتھ شادی کی اور مڈ یا  پرخبر آئی تھی ۔ اس کو آپ کیا کہیں گے؟

 وبا اور مری جابجا ہوں گے (لوقا۲۱: ۱۱)  ڈینگی وائس کیا ہے؟ کرونا نے کتنی تباہی لگائی تھی؟ نا ئجیر یا میں حال ہی میں ابولا جیسے وائرس کے سبب سے کتنی اموات واقع ہو گئیں۔ ایڈز کیا ہے اور اس کے علاوہ کئی ملکی دہائیں ہیں جو انسانی حیات کا خاتمہ کر رہی ہیں۔

مسیحی لوگوں کو قید خانوں میں بھی ڈالا جائے گا ( لوقا ۲۱: ۱۲ )۔ میں سمجھتا ہوں کہ قید خانہ والی بات اب ماضی کی تاریخ بن گئی ہے کیونکہ اب قید خانہ تک بات  پہنچتی ہی نہیں اور جنونی لوگ پہلے ہی جس پر الزام لگایا جاتا ہے اس کا کام تمام کر دیتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ میں بے شمار ایسے لوگوں کی اموات ہوئیں اور پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ ۲۰۱۴ یہ میں موجودہ عراق اور شام میں مسیحیوں کیساتھ کیا ہوا اور نائجیریا میں دختران کلیسیاء کیساتھ کیا ہوا ؟

 جوج و ماجوج کا اسرائیل کو گھیرے میں لینا ( مکاشفہ  ۸:۲۰)۔ ان قوموں کی بابت علماء بیان کرتے ہیں کہ یہ ، روس، چین اور دیگر اقوام ہیں جو اسرائیل کے شمال میں ہیں اور یہ سب صف آرا ہو کر اسرائیل کے خلاف جنگ کریں گی۔ اس جنگ میں وہ تمام اقوام شامل ہوں گی جو اس وقت اسرائیل کے بر خلاف ہیں۔

 ایٹمی اور کیمیائی عالمی جنگ کا ہونا ( مکاشفہ ۸: ۷ )۔ انسان سوچتا ہے کہ میں نے بہت زیادہ ترقی کر لی جبکہ یہ نہیں جانتا کہ اپنی ہلاکت کا ساماں خود تیار کر بیٹھا ہے۔ اگر آج ایٹمی جنگ چھڑ جائے تو اس دنیا کا خاتمہ پل بھر میں ہو سکتا ہے۔ خدا نے انسان کو حکمت اس لیے نہیں بخشی کہ وہ ہلاکت کا ساماں پیدا کرے بلکہ انسانی حیات اور بہتر ہو سکے۔ بھارت، پاکستان، ایران ، امریکہ، روس، اسرائیل اور کئی ایسے ممالک ہیں جنہیں ایٹمی طاقت ہونے پر فخر ہے۔

 معزز قارئین کرام! میں نے کوشش کی کہ آپ کی خدمت میں کئی ایسے نکات رکھے جائیں جن کے مطابق آپ آخری زمانے کے نشانات سے متعلق آگاہ ہو سکیں۔ بائبل مقدس کے پڑھنے والوں کیلئے تو یہ کوئی نئے نشان نہیں ہیں لیکن جو نہیں پڑھتے ان کیلئے یہ باتیں بطور آگاہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مسیحا کی آمد کیلئے تیاری کر لینے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بلا رنگ ونسل اور بلامذہبی تفریق کے محبت خداوندی کو جس کا اظہار مسیح یسوع ، مسیح ابن مریم کے وسیلہ سے ہوا ، اس محبت کو خاکساری کیساتھ قبول کیا جائے۔

آپ نہایت عاجزی کیساتھ کسی بھی الگ جگہ پر ممکن ہو تو نیچے بیٹھ جائیں جہاں صرف آپ اور آپ کا خدا ہو اور کوئی دوسرا مداخلت نہ کرنے پائے۔ رب العزت کے حضور اقرار کریں کہ مالک میں گنہگار ہوں۔ میری بخشش کیلئے میں از خود کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں اور یسوع مسیح کیلئے شکر گزاری کریں جو اس دنیا میں آیا تا کہ میرے گناہوں کیلئے ابدی قربانی کا انتظام اپنی جان دے کر کر سکے۔ کہیں کہ اے خدا !میں یسوع مسیح کی صلیبی موت اور پھر اس کے جی اٹھنے پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ میرے گناہوں کیلئے مر گیا اور جی اٹھا اور پھر اپنا دل کھولیں اور دعا کریں کہ اے  خداوندِ  کریم پاک روح کی صورت میں میرے دل میں آ۔ میں اپنی زندگی اور جیون تیرے نام کرتا ہوں۔ آمین ۔

 میرے عزیز! یہ کسی مشن کی یا کسی خاص چرچ کی تعلیم نہیں ہے۔ یہ بائبل مقدس کی تعلیم ہے۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو پھر کسی مقامی کلیسیاء میں جائیں جہاں بائیل مقدس سکھائی جاتی ہے اور مزید تعلیم حاصل کریں اور پانی کے بپتسمہ کیلئے تیار ہو جائیں ۔میں یسوع کی آمد سے پہلے جس تیاری کی بات کرتا ہوں  یہ وہی ہے۔ خداوند آپ کے ساتھ ہوا اور خدا کرے کہ آپ دِن با دِن روز بروز اس کی معرفت اور پہچان میں بڑھتے چلے جائیں۔ آمین۔

Back to Questions