Home
Questions And Answers

سوال: بائبل مقدس میں جو اعداد استعمال ہوئے ہیں کیا اُن کے کوئی خاص معنیٰ ہیں؟

جواب:

بائیل مقدس میں اعداد یا ہندسوں کا استعمال ہوا ہے۔ کیا ان اعداد کے کوئی خاص معنی ہیں؟

اگر ہیں تو کیا ہیں؟

کراچی  عیسیٰ نگری سے ایک نوجوان خرم شہزاد نے ان اعداد میں سے ایک کے بارے میں سوال پوچھا۔ جب میں اس سوال پر کچھ تحقیق کرنا شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ اگر آج اس ایک عدد کے بارے میں سوال ہوا تو کل دوسرے اور پھر تیسرے کے بارے میں بھی ہوگا تو کیا الگ الگ جواب دیتا پھروں گا؟  میں نے سوچا کہ اچھا ہو گا کہ ایک ہی بار  اِن مختلف اعداد کے بارے میں بات کرتا چلوں تا کہ بہت سے اور طلباء بائبل مقدس کا  فائدہ ہو جائے ۔ لہٰذا میں مختلف ذرائیع سے جن میں انٹرنیٹ بھی ہے  جن میں انٹرنیٹ بھی شامل ہے  مدد لے کر  سوچ بچار کر نے کے بعد ان اعداد کے بارے میں کچھ تفصیل پیش کرنا چاہوں گا جو بہت زیاد ہ  علمانہ نہیں ہو گی  لیکن میری طرح کے طلباء کیلئے سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

 بائیل مقدس   کے پیغام کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے  لیکن ساتھ ہی ساتھ اِس میں پائے جانے والے  اعداد یا ہندسوں کے بارے میں بھی علم  بُری بات نہیں ہے ۔ ان ہندسوں کو کوئی خاص روحانی سبق سکھانے کیلئے یا کسی خاص نمونے کیلئے استعمال کیا گیا ہے  تاہم کئی لوگ اِن اعداد پر بہت ہی زور دیتے رہتے ہیں کہ بائیل مقدس میں پائے جانے والے ہر ہندسہ کے  اور اِس کھوج میں رہتے ہیں کہ بائبل مقدس میں پایا جانے والا  ہندسہ کے پیچھے کیا بھید چھپا ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بائبل مقدس میں پایا جانے والا عدد بس ایک عدد ہی ہوتا ہے۔ خد انے ہمیں اس لیئے  نہیں بلایا کہ ہم اِن اعداد کے پیچھے چھپے ہوئے معنیٰ ہی دریافت کرتے رہیں ۔ اِن اعداد کے علاوہ  جو کُچھ  کلام میں پایا جاتا ہے وہ ہماری روحانی ضرورت  کو پورا کرنے کیلئے کہیں زیادہ  معنیٰ خیز ہے۔ تا کہ ہم ہر نیک کام کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور خداکی مرضی کے سانچے میں ڈھلنے والے ہوں (۲  تیمتھیس ۳: ۱۶)۔

 یہ اعداد لکھ کر دروازوں کی چوکھٹوں پر لگانے  یا پینے کیلئے قطعی نہیں ہیں جیسے بعض علم سے غافل اور لکیر کے فقیر لوگ کرتے ہیں۔ ذیل میں ان اعداد کے بارے میں مختصرسی تحقیق پیش کرنا اپنے لیئے اعزاز سمجھتا ہوں۔ بائبل مقدس میں پائے جانے والے ان اعداد میں سے چند معر وف اعداد ۴، ۴، ۶، ۷، ۱۲، ۴۰، ۷۰، ۶۶۶  ہیں ۔ یہاں پر میں ترتیب وار ایک ایک کر کے اِن پر غور کرنا چاہوں گا۔

 تین کا ہندسہ

تین کے ہندسہ کوبھی  اِلٰہی کاملیت یعنی پاک  تثلیث کا نام دیا گیا ہے۔ اگر چہ لفظ تثلیث کتاب مقدس میں ہمیں کہیں بھی نہیں ملتا مگر تعلیم ضرور مِلتی ہے۔ تاہم  علما بائبل  نے ذاتِ اِلٰہی کو  کسی حد تک جہاں تک سمجھنے کی ضرورت ہے  سمجھانے کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔  تثلیث میں باپ، بیٹا اور روح  القدس شا مل ہیں  ۔ عہدِ جدید میں  خد اوند یسوع کی پر تین آزمائشوں کا ذکر ملتا ہے۔ یسوع مسیح تین شاگردوں کو زیادہ پیار کرتے ۔  اور یہی شاگرد پہاڑ پر بھی یسوع مسیح کیساتھ تھے، جہاں انہوں نے یسوع کے ساتھ موسی اور ایلیاء کو بھی دیکھا۔

عہدِ عتیق میں سیموئیل کو تین بار آواز دی گئی ۔ یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں اور یسوع تین دن رات قبر میں رہا۔ یسوع نے تین مردوں کو جلا یا جن میں  لعزر، بیوہ کا بیٹا اور یائر کی بیٹی  شامل تھے۔ یسوع مسیح کے نسب نامہ میں بیالیس پشتوں کو تین حصص میں تقسیم کیا گیا ہے۔

 چار کا ہندسہ

اس ہندسہ کوبھی  بائبل مقدس  میں چند مقامات پر  دُہرایا گیا ہے۔ اس کو تخلیق کا ہندسہ بھی کہا گیا ہے۔ مشرق مغرب شمال اور جنوب اور اس کے علاوہ  چار موسم بھی ہیں اور  ۴ہوائیں اور ۴ انبیاء اکبر بھی ہیں جن میں  یرمیاہ ، یسعیاہ ، حزقی ایل اور دانی ایل شامل ہیں ۔۴، گھوڑوں کا ذکر ہے اور زمین کے چاروں کونوں پر کھڑے۴ فرشتوں کا بھی بیان ہے۔ ۴انا جیل بھی ہیں اور ۴ جاندار بھی ہیں جن کا ذکر حزقی ایل ، دانی ایل اور مکا شفہ میں ملتا ہے۔

 چھ کا ہندسہ

چھ کے  ہندسہ کو اِنسان کا ہندسہ کہا گیا۔چھ ہمیشہ ساتھ سے کم ہوتا ہے اور کامل نہ ہونے کو پیش کرتا ہے  انسان انسان چھٹے دن  بنا یا گیا  ۔اِنسان صرف چھ دِن ہی محنت کرتا ہے۔  جب کہ ذاتِ الٰہی یا پاک  ثالوث کیلئے  کیلئے ۷۷۷ کا ہندسہ مستعمل ہے اور پھر مخالفِ مسیح کیلئے جو ہندسہ استعمال ہو اہے وُہ ۶۶۶ ہے۔

سات کا ہندسہ

 سات  کا ہندسہ  کاملیت یا تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے  (پیدائش ۷: ۲ ۔ ۴،   مکاشفہ ۱: ۲۰)۔اگر ۶کا ہندسہ انسان کو پیش کرتا ہے تو  ۷ کو خدا کا ہندسہ یا عدد بھی کہا گیا ہے۔ کیونکہ وہی ہے جو کامل ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ( مکاشفہ ۴: ۵،  ۵: ۱، ۵: ۵ ۔ ۶ )۔ عہدِ عتیق میں  ساتھ کے ہندسے کی ویسے بھی  علامتی طور پر بڑی اہمیت ہے۔ مثلاً یہ بھی حکم ہو اکہ جانور کو قربان کرنے سے پیشتر  اُس کا سات د،ن کا ہونا ضروری ہے ( خروج ۳۰:۲۲) ۔  نعمان کوڑھی کو حکم دیا گیا کہ مکمل شفا کیلئے دریائے یردن میں ۷ غوطے لگانا ضروری ہے(۲ سلاطین ۵: ۱۰ )۔ یشوع کو حکم دیا گیا کہ  وُہ یریحو کے چوگرد سات دِن تک ۷ چکر لگائے۔  اور پھر ساتویں  دِن سات کاہن ساتھ نرسنگے پھو نکیں تو شہر کی فصیل گر جائے گی (یشوع ۶: ۳۔ ۴ )۔آپ نے دیکھا کہ اِن تمام واقعات میں  سات کا ہندسہ  کسی چیز یا کسی مقصد کی طرف  اشارہ کرتا ہے۔ کشتی نوح میں ۷ پاک  جانوروں کے ساتھ جوڑے دیکھتے ہیں (پیدائش ۷: ۲ )  ۔خیمہ اجتماع کے شمعدان کی  سات ڈنڈیاں دیکھتے ہیں(خروج ۲۵: ۳۷  ) ۔ یسعیاہ ۱۱: ۲ میں  مسیحا کی سات خصوصیات دیکھتے ہیں۔ امثال ۶: ۱۶ میں  ایسی سات چہزیں ہیں جن سے خدا کو نفرت ہے۔  متی ۱۳ ،میں ساتھ تماثیل اور پھر متی ۲۳ باب مین سات افسوس پائے جاتے ہیں۔

 اس کے علاوہ کئی ایسے مقامات بھی ہیں جہاں  سات کا ہندسہ ہمارے لیئے حوصلہ افزائی  کی  بات بھی ہے۔ مثلاً یوحنا کی انجیل میں  جہاں  خداوند نے کہا کہ’’ میں ہوں‘‘ وُہ سات بار آتا ہے۔  ایک اور مقام پر ہمارے لیئے بطورِ چیلنج ہے کہ  جاہں خداوند نے پطرس سے کہا کہ سات کی ستر بار معاف کر۔( متی ۲۲:۱۸) مکا  شفہ کی کتاب میں یہ ہندسہ ۵۰ سے زائد مرتبہ  مستعمل ہے۔  اِن حوالہ جات میں ۷، کلیسیاؤں ، خدا کے تخت کے سامنے  ساتھ روحوں   کا  ذکر (مکاشفہ ۱: ۴ )  سات سونے کے  شعدان ( مکاشفہ ۱: ۱۲ ) اور مسیح  کے داہنے ہاتھ میں  سات، ستاروں (مکاشفہ ۱: ۱۶ ) پھر۷، خطوط اور ۷، فرشتوں  کا  بھی ذکر ہے۔ایسے حوالے بھی ہیں جہاں سات، کے ہندسے کا خدا کی عدالت کے ساتھ بھی تعلق پایا جاتا ہے ۔ مثلا خدا  کی عدالت کی ساتھ مہریں (مکاشفہ ۵: ۱ ) سات  پیالے ، سات آفات ، سات نرسنگوں (مکاشفہ ۸: ۲ ) کا ذکر ہے۔ خدا کی طرف سے اسرائیل کو سات بار آگاہی بھی پائی جاتی ہے ( احبار ۱۸:۲۶)۔

میں پھر سے کہوں گا کہ  ساتھ کے ہندسہ کا بار بار استعمال مکمل یا تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بائبل مقدس میں یہ ہندسہ  سات سو سے  زائد مرتبہ مستعمل ہے۔ سات کلیسیائوں کا بھید مسیح کے کامل بدن کو پیش کرتاہے۔ طومار پر سات مہریں اِس زمین  پر خدا کی مکمل عدالت کی طر ف اشارہ ہے۔ سات کے ہندسے کا بائبل مقدس میں سات سے  ضرب کے حساب سے بھی ذکر مِلتا ہے  ۔ مثلا دانی ایل  ۹: ۲۴  جو ستر ہفتوں کی نبوت ہے ،وہ ستر ضرب  ستر یا سات ، ضرب سات ، ضرب ۱۰، ہے جو ۴۹۰، دِن  بنتے ہیں۔یر میاہ ۱۰:۲۹ میں بابل  کی اسیری کا ذکر ہے کہ ستر سال تک ہوگی۔ احبار ۸:۲۵ کے مطابق جو سال یو بلی تھاوہ ہر  ۴۹  سال گزرنے کے بعد منایا جاتا تھا۔

 ۱۲ کا ہندسہ

بارہ کا ہندسہ بھی اپنے آپ میں بہت  بڑے معنی رکھتا ہے۔ بائبل مقدس میں اس ہندسہ کا بھی کئی بار استعمال ہوا ہے جیسے اسرائیل کے بارہ قبائل ، یرون میں رکھے گئے بارہ  پتھر ، موسیٰ کا بارہ اشخاص کا چناؤ کرنا۔  یسوع مسیح کے بارہ شاگرد کھانے کے  بچے ہوئے بارہ ٹو کرے۔  نئے یروشلیم کی بنیاد با رہ قیمتی پتھروں سے پڑی ہے۔ اس نئے شہر یر وشلیم کے بارہ دروازے ہیں۔ زندگی کا درخت بارہ مختلف پھل دیتا ہے۔ بارہ انبیااصغر ہیں۔

 چالیس کا ہندسہ

چالیس کے ہندسہ کو عموماً تیاری یا آزمائش کا عدد بھی کہا جاتا ہے۔ مثلا طوفان نوح کے وقت چالیس دن اور چالیس رات تک بارش ہوتی رہی ( پیدائش ۷باب ) اسرائیلی ۴۰ ، برس تک آوارگی کا شکار ہے (  استثنا ۸: ۲ ۔ ۵ )۔  موسی ۴۰، دن تک پہاڑ پر رہا تا کہ خدا کی مرضی کو جانے (خروج ۱۸:۲۴)۔ یوناہ اور نینوہ کے واقعے میں بھی ۴۰ ون شامل ہیں۔ (یونا ہ (۳: ۴ )۔ یسوع مسیح بھی ۴۰ دنوں تک آزمایا گیا (متی (۴: ۲ )۔ یسوع کے جی اٹھنے اور اس کے صعود آسمانی کے درمیان بھی ۴۰ دن ہی تھے ( اعمال (۱: ۳ )۔

 چھ سو چھیاسٹھ کا ہندسہ

ایک اور ہندسہ  بھی  بائبل مقدس میں پہچاننے کیلئے ہے اور  وُہ ہے ۶۶۶ کا  ہندسہ۔  مکاشفہ ۱۳، باب میں یہ  مخالفِ مسیح  کا ہندسہ ہے۔ ان اعداد کا کوئی مقام ضرور ہے اور کئی حلقوں میں ان پر آج بھی بحث ہوتی ہے۔ یاد کیجئے کہ یہ ۷۷۷ ، سے بڑا نہیں ہے۔ اس کی بھی بہت زیادہ تفصیل بائبل مقدس میں پہلے ہی سے پائی جاتی ہے۔ مکاشفہ کی کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔ امید ہے کہ پچاس فیصد آپ کی تسلی ہو گئی ہوگی۔ میری دعا ہے کہ خد اوند آپ کو اپنے جلال کیلئے استعمال کرتا ر ہے۔ آمین۔

Back to Questions