Home
Questions And Answers

سوال: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

جواب:

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

قارئین کرام ! ۱۹۴۷  میں ہم  ایک الگ ملک پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشہ پر اُبھرے۔ اس کے پیچھے ایک سوچ یہ تھی کہ ہم ایک الگ سے ریاست ہوں جہاں ہم مذہبی فرائض سر انجام دینے میں مکمل طور پر آزادی محسوس کر سکیں ۔ ہمارے وطن پاکستان کے وجود میں آنے میں مسیحی لوگوں کا اہم ترین کردار رہا اور اگر تین  مسیحی ہیر و قیام پاکستان کیلئے ووٹ نہ ڈالتے تو شاید آج پاکستان عالمی نقشے میں کہیں بھی نظر نہ آتا۔ ہمارے ولوں میں نفرت و کدورت اور کڑواہٹ کا یہ عالم ہے کہ ان کو یاد تک نہیں کیا جاتا اور اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ وہ  مسیحی تھے۔ کاش کہ پاکستانی نظام تعلیم میں اُن کے نام سنہری حروف میں لکھے جاتے اور آپ ہر پاکستانی  بچے کو اُن کے ناموں سے واقفیت ہوتی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کی غلامی کی نادیدنی بیڑیاں  آج اِتنے سال  بعد بھی ہمارے پاؤں اور ہاتھوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر آج ہم کونسی آزادی کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں؟

 اس مذہبی غلامی نے ہمیں ایسا مفلوج کر کے رکھ دیا کہ جوش ہے اور ہوش نہیں، مذہبی ہیں لیکن روحانی نہیں، جسم ہے مگر جان نہیں، انسان ہیں مگر دل نہیں ۔ظلم کی زنجیروں میں جھکڑا ہوا پاکستانی انصاف کے کٹہرے میں کشکول اٹھائے ، انصاف کے ٹھیکیداروں کے دربار میں زنجیر ہلاتے ہلاتے دم توڑ دیتا ہے یا قمر ڈیوڈ کی طرح اُن کا  کام ہی  تمام کر دیا جاتا ہے۔ مذہبی غلامی نے ہمیں ایسا ظالم بنا دیا کہ انسان کا خون کرنا ،کار ثواب سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک شخص کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔

 آزادی کے خواب دیکھنے والے  ۱۹۴۷ سے  پہلے بھی اور اب  بعد بھی تلواروں کے سائے تلے عبادت کرتے ہیں۔ ہندو مسیحی ،  شیعہ حضرات،  غرضیکہ ہر فرقہ اب اجتماعی نماز ادا کرنے سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں مذہبی جنون کے غلام  کہیں بم سے اُڑانہ دیں۔

جن کی بستیاں نذر آتش کی جاتی جن کو مذہب کے نام پر قتل کیا جاتا ، جن کو مذہب کے نام پر فروخت کیا جاتا اور اُن کے لہو کے دریا بہائے جاتے ہیں ان کے ذہن میں ہماری یوم آزادی کے وقت سوالیہ نشان ہوتا ہے کہ یہ کونسی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ وہ اس پرندے کی مانند ہیں جس نے کبھی باہر کی دنیا نہیں دیکھی اور پر کٹے  ہوئے ہیں کہ اُڑنا چاہے بھی تو نہیں اُڑ سکتا۔ بے چارے غریب کو معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ہماری فطرت میں ابھی تک فطور ہے اور کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ہم نے ابھی تک سبیلوں کے ساتھ پلاسٹک کے گلاس زنجیر سے باندھے ہوئے ہیں کہ کوئی  چُرا کر لے نہ لے جائے۔ عبادت گاہوں میں جوتی کے چوری ہو جانے کے خطرے سے ہم نے اچھی جوتی پہننا چھوڑ دی اور جو ہوتی ہے اُس کو بھی اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتے ہیں کہ کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھوں ۔

 خدا گواہ ہے کہ ہر پاکستانی جس پنجرے میں  ۱۹۴۷ سے بند اور قید ہے وہاں سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ ہر اگلی صبح سکھ کا سانس لینے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ ہزاروں سال پہلے جو انسانی جانوں کی منڈیاں لگا کرتی تھیں وہ آج بھی ہیں۔ اندرون سندھ میں ہندو اور مسیحی نوجوان لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سوشل میڈیا اور فیس بک اس طرح کے دل خراش واقعات سے پر ہوتے ہیں۔

 افسوس اس بات کا ہے کہ ہم پاکستانی کسی ایک غلامی کے جوئے تلے نہیں بلکہ کئی طرح کی غلامیوں کے جوئے کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ انسانوں کی غلامی ، ہوس پرستی کی غلامی کی روح ، مذہبی اجاراداری کی روح کی غلامی، ہر طرح کے نشے کی غلامی کی روح ، ملاوٹ اور رشوت ستانی کی غلامی کی روح ، جبر اور ظلم کی غلامی کی رُوح، خود پرستی اور خود نمائی کی غلامی کی رُوح، اپنی کوشش سے بڑا بننے کی روح اور بے شمار ایسی غلامیاں ہیں جن کا بیان کروں تو ہمارے پاؤں تلے سے زمین لرز نا شروع کر دے گی۔

 خاندان تو در کنار کئی لوگ شخصی طور پر جاگیرداروں کے ہاتھ اینٹوں کے بھٹوں پر بکے ہوئے ہیں۔ جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن جاگیردارانہ نظام کے ظلم کی بیڑیاں انہیں آزاد نہیں ہونے دیتی۔ بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ ابھی  چندسال  ہوئے کہ شام کی روٹی کھانے کیلئے پیسے مانگنے پر غریب مسیحی جوڑے کو جھوٹا الزام لگا کر آگ کی بھٹی میں جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور ابھی تک انصاف دُور دُور تک نظر نہیں آتا ۔ آج جو چاہے کسی پر بھی جھوٹا الزام لگا کر تختہ دار پر لٹکا دیا جائے کوئی سننے والا نہیں ہے۔

میں نے فیس بک پر دیکھا کہ عورت پر ظلم کی انتہا یہ کہ سخت گرمی میں اُس نے پیرا شوٹ کا برقع پہنا ہوا ہے کہ اُسے ہوا بھی نہیں لگتی اور یوں بے چاری ساری عمر مرد کی غلامی میں زندگی کی دوڑ دوڑتی رہتی ہے۔ بُرقع اُس کا ذوق نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ عورت کسی کو نہ دیکھے،  مرد بھلے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتار ہے۔ یہ کونسے پردے کی بات ہو رہی ہے اور آج یہ کونسی آزادی کی بات ہو رہی ہے؟ آخر ہمارے ملک میں کون آزاد ہے اور وہ آزادی کہاں ہے؟

میں حکومت وقت سے درخواست کروں گا کہ اگر آزادی کی بات کرتے ہیں تو پھر لوگوں کو موت کے آہنی پنجوں سے آزاد کریں۔ بے شمار ایسے لوگ جو بے گناہ جیلوں میں مقید ہیں انہیں آزاد کریں، کوشش کریں کہ پاکستانی سوچ میں تبدیلی آجائے، کرپشن کا خاتمہ کریں، جاگیر دارانہ نظام ختم کریں، غریب کے گلے پر سے ظلم کی تیز چھری ہٹائیں، قوانین توڑنے کیلئے نہیں بلکہ فرمانبرداری کیلئے تشکیل دیں ۔ عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کریں اور پھر یوم آزادی مبارک ہو کہیں تو بات بنے گی۔

 ہم مغرب کے بھی غلام ہیں اور اگر آج مغرب قرض دینا بند کر دے پاکستان ختم ہو جائے گا۔ ہم کپڑے لنڈا  کے ان کے پہنتے ہیں اور پھر کا فر بھی وہی ہیں اور گالیاں بھی ان ہی کو دیتے ہیں۔ یہ  نیچ سوچ کی بات ہے۔ فیکٹریاں اور کمپنیاں ہم نے بند کر دیں کیونکہ بھتہ خوری کی انتہا ہو گئی۔ بجلی ہمیں نہیں مل رہی ، گیس کا بحران، صاف پانی میسر نہیں اور یہ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں تو پھر کونسی آزادی کی بات کر رہے ہیں؟ ارے کوئی ایک بات تو ہو جس سے معلوم ہو کہ ہم آزاد ہیں۔ ہم ہر پہلو کے اعتبار سے چاروں اطراف سے جکڑے ہوئے ہیں۔ آج دنیا میں اپنے ملک کا نام بتاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کو دیکھتے ہی ہمیں لائن میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ آخر اس سب کچھ کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ کبھی غور کیا ؟ کبھی سوچا ؟ کیا واقعی ان لعنتوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں؟ کیا آپ بھی ان ہی غلامیوں میں  جُتے ہوئے ہیں یا کسی کو غلام بنایا ہوا ہے؟ کیا دنیا بھر میں جہاں جہاں مذہبی جنونی اور غلامی کی زنجیریں ہیں وہاں خون خرابہ ، گشت و خون ، لڑائیاں ، افراتفری نہیں ؟ کیا وہاں حقوق انسانی کو پامال نہیں کیاجا رہا ہے؟۔

 میرے عزیز وا بہت کچھ کہہ دیا اور مزید کہنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اچھا ڈاکٹر مرض ہی نہیں بلکہ علاج بھی بتاتا ہے۔ میں آپ کو اس غلامی سے آزادی کا علاج بھی بتاتا ہوں۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو واقعی آزادی دلا سکے۔ بادشاہ، امیر و کبیر، اثر و رسوخ والے لوگ، مذہبی علماء انبیا و پیغمبر اس دنیا میں تشریف لاتے رہے لیکن کوئی بھی انسان کو حقیقی آزادی نہیں دلا سکا۔ حقیقی آزادی کیلئے انسان کے دل کی تبدیلی ضروری ہے۔ انجن تبدیل ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ ماہرین امراض قلب نہیں کر سکتے۔ انسان خود بھی ایسا نہیں کر سکتا، مگر صرف خدائے قادر ایسا کر سکتا ہے کیونکہ اس نے انسان کو بنایا ہے۔ چونکہ خدا گنہگار انسان سے پیار کرتا ہے اگر چہ وہ گناہ سے نفرت کرتا ہے جس کی وجہ سے خدائے قادر نے انسان کا انجن یعنی دل بدلنے کیلئے خود ایک خوبصورت انتظام بھی کیا ۔ و ہ انتظام کیا ہے؟ غور فرمائیے گا۔

 انسان مرض گناہ کی غلامی میں تھا اور ہے۔ خدا نے انسان کو اس غلامی سے آزاد کرنے کیلئے اپنے کلمہ کو جسم دے کر کلمتہ اللہ یعنی  مسیح ِ ابن مریم کو اس دنیا میں بھیج دیا۔ تا کہ وہ انسان کی باطنی تبدیلی کیلئے کفارہ دیں۔ کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار کا کفارہ نہیں ہو سکتا۔ حضرت آدم کی اولاد میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو دوسروں کیلئے کفارہ ہو سکتا جس کی وجہ سے کسی ایسے کے آنے کی ضرورت تھی جو اولاد آدم نہ ہو اور اس کی ذات میں گناہ کا وائرس نہ ہو۔ چنانچہ حضور المسیح نے اس دنیا میں آکر گنہگار لوگوں کیلئے اپنی جان کا کفارہ دے دیا۔ آپ نے دوسروں کی جان نہیں لی بلکہ خود اپنی جان دے دی۔ یہ کسی مذہب کے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ گنہگار انسان کیلئے انتظام الہی ہے۔ آپ جو شخص آنسووں کیساتھ یہ اقرار کرے کہ میں گنہگار ہوں اور میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے اور خدا کا شکر کرتے ہوئے کہ اُس نے میرے گناہوں کے کفارے کا انتظام مسیحا کے وسیلہ سے کیا اور ایمان لائے کہ حضورالمسیح  نے میری لئے اپنی جان کا کفارہ دے دیا اور اپنی زندگی کا ریموٹ کنٹرول اُن کے ہاتھوں میں سونپ دے تو وہ غلامی سے آزاد ہو سکتا ہے۔

 یہ انتظام کسی مذہب نے نہیں کیا بلکہ خدا نے بذات خود کیا ہے۔ جو کوئی اس انتظام کو ٹھکراتا ہے و ہ نار جہنم کا سزاوار ہوگا۔ میں کسی مذہب کی بات بھی نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں خدا کی محبت کا بیان کر رہا ہوں۔ اس ضمن میں آپ ای میل کے ذریعہ مزید جان سکتے ہیں۔ خداوند آپ کو برکت دے اور حقیقی آزادی کے الہی انتظام کو قبول کرنے کا فضل بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions