Home
Questions And Answers

سوال: یسوع کا اصل نام کیا ہے؟

جواب:

یسوع  مسیح کا اصل نام کیا ہے؟

قارئین ! اکثر میرے نو جوان دوست اس الجھن کے شکار ہوتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح کا نام اصل میں عمانوایل ہے یا یسوع۔ اس سوال کے اٹھنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بائبل مقدس کے کچھ حوالہ جات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہے ہوتے اور نہ ہی ان کو کوئی سمجھانے والا ملتا ہے اور پھر خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر خاکسار سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالم  تو میں بھی نہیں لیکن تحقیق ضرور کرتا ہوں۔ بہت سے سوالات کے جوابات پر کام کرنے کے بعد میں نے چاہا کہ اب اس سوال کے جواب پر بھی قلم اٹھاؤں، لہذا خادم حاضر ہے۔

اس سوال کا جواب جاننے کیلئے ضروری ہوگا کہ آپ جانیں کی بائبل مقدس کے زمانہ میں جب کوئی نام رکھا جاتا تھا تو اُس کے کوئی خاص معنی ہوتے تھے اور یہ معنی اُس شخص کی شخصیت ، کام اور کردار کو بیان کرتے تھے۔ عبرانی زبان میں یہ صفت آپ کو اکثر نظر آئے گی۔ ابرام کے معنی دیکھئے اور پھر ابرہام کے معنی دیکھئے آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔ یوں آپ دیگر ناموں کے مطلب بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جس معاشرے میں میری پیدائش ہوئی وہاں بھی بہت سوچ سمجھ کر نام رکھے جاتے تھے۔ آج بھی بہت سے لوگ فون پر فیس بک پر یا ای میل کے ذریعہ مجھ سے مشورہ لیتے ہیں کہ جی ہمارا بے بی پیدا ہوا ہے اور کوئی اچھا سا نام بتائیں جس کے کوئی خاص معنی ہوں۔ اسی طرح جب یہوّاہ خدا نے بھی نام دیئے تو ان کا مطلب اور مقصد ہوتا تھا۔ اس سوال کے جواب کو جاننے کیلئے یہ بات ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

سب سے پہلے میں ان تین حوالہ جات کو آپ کی خدمت میں تحریر کرتا ہوں جن کو بنیاد بناتے ہوئے اس طرح کا سوال کلام مقدس کے قارئین اور طلباء کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔

یسعیاہ  ۷: ۱۴،  لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا پیدا ہوگا اور  وُہ  اس کا نام عمانوایل رکھے گئی۔ لوقا  ۱: ۳۱،  اور دیکھ تو حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا، اُس کا نام یسوع

 ( یہوشواع) رکھنا۔

 متی ۱: ۲۲۔ ۲۳ ، وُہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ جو خداوند نے نبی کی معرفت کہا تھاوُہ  پورا ہوکہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام عما نو ایل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے ’’ خدا  ہمارے ساتھ‘‘۔

اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ پرانے عہد نامے میں خداوند یسوع مسیح کیلئے اسطرح کے کئی نام آئے ہیں کہ جیسے  ’’وُہ یہ کہلائے گا ‘‘یعنی جب خداوند یسوع مسیح آئے گا تو اس میں یہ تمام اوصاف و خصوصیات پائی جائیں گی۔ یہ اُس زمانہ میں ایک عام سی بات تھی۔ یسعیا ہ  خداوند یسوع میں سے متعلق یہ بھی بات کرتا ہے کہ " اس لیئے ہمارے لیئے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اس کے کندھے پر ہوگی اور اس کا نام عجیب مشیر، خدائے قادر ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ ہوگا (یسعیاہ ۹: ۶ ) ۔ ان تمام القابات میں سے یسوع ( یہوشواع) کا کوئی ایک بھی اصل نام نہیں تھا۔ یہ  تو اوصاف و توضیحات تھیں کہ لوگ اس کو ہمیشہ تک اسی طرح پکاریں اور جانیں گے کہ وہ ایسا ہے ۔ مقدس لوقا ۱: ۳۲،  میں اس کے حق میں کہتا ہے کہ ’’وہ حق تعالی کا بیٹا " کہلائے گا اور لوقا ۱: ۳۵ ،  میں اسے "خداا کا بیٹا ‘‘کہا گیا۔ لوقا  ۱: ۷۶ ،  میں اُسے ’’خُد اتعالیٰ کا نبی‘‘کہا گیا۔ ان بیانات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ دیکھیں گے کہ یسوع ( یہوشواع) کو ان ناموں سے نہیں پکارا گیا ۔اگر چہ وہ یہ سب کچھ تھا کیونکہ یہ اس کے نام نہیں تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ یسوع ( یہوشواع) یہ سب کچھ کہلایا گیا بلکہ بہت سے اور پہلووں کے اعتبار سے بھی کہلایا گیا۔ مندرجہ بالا چند مثالیں صرف ہمارے سمجھنے کیلئے تھیں۔

 یر میاہ نبی دو مختلف حوالوں میں آنے والے مسیحا سے متعلق بات کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس میں یہ خصوصیات ہوں گی۔ یرمیاہ  ۲۳: ۶،  اور ۳۳: ۱۵۔ ۱۶، یہوّاہ (خد اوند) ہماری صداقت ۔ اب ہم جانتے ہیں کہ خدا باپ کا نام ’’یہواہ‘‘ہے جو اُس کا شخصی نام ہے۔ یسوع (یہو شواع ) کو کہیں بھی  ’’یہواہ‘‘نام سے نہیں پکارا گیا۔ لیکن اس نے یہ ضرور کیا کہ ایمان لانے والوں کیلئے  یہواہ خدا  کی راستبازی کے حصول کا منبع بن گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اُس نے انسانوں کے گناہوں کو لے لیا اور اُس کے بدلے یہواہ کی راستبازی انھیں دی (۲ کرنتھیوں ۵: ۲۱)۔ اس لیئے یسوع ( یہو شواع) کے بہت سے القابات میں سے عمانوایل ایک لقب یا خطاب ہے۔

 يسوع مسیح الہی شخصیت کے اعتبار سے اور یہوّاہ ہونے کے لحاظ سے خدا ہے اور جب وہ اس زمین پر انسانی جامے میں آگیا تو اسے عمانوایل کہا گیا یعنی  خداہمارے ساتھ ہے۔ اگر چہ یسوع کا نام ’’عمانوایل‘‘ نہیں تھا لیکن اُس کا کردار عمانو ایل کا تھا اور اسی لیے وہ بشری جامہ میں اس دنیا میں آیا ۔ متی  کی معرفت لکھی گئی انجیل ۲۸: ۲۰ ،  میں یسوع مسیح نے فرمایا اور دیکھو میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ۔ یہ تمام باتیں خداوند یسوع مسیح کے مشن یعنی کام اور دنیا میں تشریف لانے کے مقصد کو بیان کرتی ہیں۔

 حرف آخر کے طور پر یہ کہوں گا کہ ’’یہوشواع ‘‘ یسوع مسیح ابن مریم کا نام ہے اور باقی سب اُس کے کاموں کو بیان کرنے کیلئے القابات ہیں۔ عمانوایل یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا وند یسوع مسیح میں ہمارے ساتھ ہے۔ امید کرتا ہوں کہ یہ کاوش آپ کیلئے بہت کار آمد ثابت ہوئی ہو گی۔ خداوند آپ کو بہت بہت برکت بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions